حقیقتِ نماز — Page 70
حقیقت نماز جو حقیقت اور مغز تھا وہ نکل گیا۔اب دیکھ لو مثلاً ایک افغان نماز تو پڑھتا ہے لیکن وہ اثر نماز سے بالکل بے خبر ہے۔یادرکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز۔صلوۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں۔یہ قرب کی کنجی ہے۔اسی سے کشوف ہوتے ہیں۔اسی سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں۔یہ دعاؤں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے اور اس سے پیار کرتا ہے جیسے ہندو گنگا سے پیار کرتے ہیں۔ہم دعاؤں سے انکار نہیں کرتے۔بلکہ ہمارا تو سب سے بڑھ کر دعاؤں کی قبولیت پر ایمان ہے۔جبکہ خدا تعالیٰ نے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن ۶۱ ) فرمایا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد دعا کرنا فرض نہیں ٹھہرایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی التزامی طور پر مسنون نہیں ہے۔آپ سے التزام ثابت نہیں ہے۔اگر التزام ہوتا اور پھر کوئی ترک کرتا تو یہ معصیت ہوتی۔تقاضائے وقت پر آپ نے خارج نماز میں بھی دعا کر لی۔اور ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ آپ کا سارا ہی وقت دعاؤں میں گزرتا تھا۔لیکن نماز خاص خزینہ دعاؤں کا ہے جو مومن کو دیا گیا ہے۔اس لیے اس کا فرض ہے کہ جب تک اس کو درست نہ کرے اور اس کی طرف توجہ نہ کرے کیونکہ جب نفل سے فرض جاتا رہے تو فرض کو مقدم کرنا چاہیے۔اگر کوئی شخص ذوق اور حضورِ قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو پھر خارج نماز بے شک دعائیں کرے ہم منع نہیں کرتے۔ہم تقدیم نماز کی چاہتے ہیں اور یہی ہماری غرض ہے۔مگر لوگ آج کل نماز کی قدر نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے بہت بعد ہو گیا۔مومن کے لیے نماز معراج ہے اور وہ اس سے ہی اطمینان قلب پاتا ہے، کیونکہ نماز میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور اپنی عبودیت کا اقرار، استغفار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 70