حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 67 of 148

حقیقتِ نماز — Page 67

حقیقت نماز حالت ہو رہی ہے کہ نماز کو ایسے طور سے پڑھتے ہیں کہ جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دعا کے لئے کرتے ہیں اور دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں؛ حالانکہ نماز کا ( جو مومن کی معراج ہے ) مقصود یہی ہے کہ اس میں دعا کی جاوے اور اسی لئے اُمُّ الْأَدْعِيَهُ، اهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ دعا مانگی جاتی ہے۔انسان کبھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتا جب تک اقام الصلوۃ نہ کرے۔آقِیمُوا الصَّلوةَ اِس لئے فرمایا کہ نماز گری پڑتی ہے مگر جو شخص اقام الصلوة کرتے ہیں تو وہ اس کی روحانی صورت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں تو پھر وہ دعا کی محویت میں ہو جاتے ہیں۔نما ز ایک ایسا شربت ہے کہ جو ایک بار اسے پی لے اُسے فرصت ہی نہیں ہوتی۔اور وہ فارغ ہی نہیں ہو سکتا۔ہمیشہ اس سے سرشار اور مست رہتا ہے۔اس سے ایسی محویت ہوتی ہے کہ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اسے چکھتا ہے تو پھر اس کا اثر نہیں جاتا۔مومن کو ہمیشہ اُٹھتے بیٹھتے ہر وقت دعائیں کرنی چاہئیں مگر نماز کے بعد جو دعاؤں کا طریق اس ملک میں جاری ہے وہ عجیب ہے۔بعض مساجد میں اتنی لمبی دعائیں کی جاتی ہیں کہ آدھ میل کا سفر ایک آدمی کر سکتا ہے۔میں نے اپنی جماعت کو بہت نصیحت کی ہے کہ اپنی نماز کو سنوارو یہ بھی دعا ہے۔کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ تیس تیس برس تک برابر نماز پڑھتے ہیں پھر کورے کے کورے ہی رہتے ہیں۔کوئی اثر روحانیت اور خشوع وخضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا۔اس کا یہی سبب ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جس پر خدا تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے۔ایسی 67