حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 63 of 148

حقیقتِ نماز — Page 63

حقیقت نماز ہم انکار نہیں کرتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی ہو گی مگر ساری نماز دعا ہی ہے اور آج کل دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نماز کو جلدی جلدی ادا کر کے گلے سے اُتارتے ہیں۔پھر دعاؤں میں اس کے بعد اس قدر خشوع خضوع کرتے ہیں کہ جس کی حد نہیں اور اتنی دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں کہ مسافر دومیل تک نکل جاوے۔بعض لوگ اس سے تنگ بھی آ جاتے ہیں تو یہ بات معیوب ہے۔خشوع خضوع اصل جز و تو نماز کی ہے۔وہ اس میں نہیں کیا جاتا اور نہ اس میں دعا مانگتے ہیں۔اس طرح سے وہ لوگ نماز کو منسوخ کرتے ہیں۔انسان نماز کے اندر ہی ماثورہ دعاؤں کے بعد اپنی زبان میں دعا مانگ سکتا ہے۔“ ،، ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 265-264 مطبوعہ 2010ء) پانچ وقت اپنی نمازوں میں دعا کرو۔اپنی زبان میں بھی دعا کرنی منع نہیں ہے۔نماز کا مزا نہیں آتا ہے جب تک حضور نہ ہو اور حضور قلب نہیں ہوتا ہے جب تک عاجزی نہ ہو۔عاجزی جب پیدا ہوتی ہے جو یہ سمجھ آجائے کہ کیا پڑھتا ہے۔اس لیے اپنی زبان میں اپنے مطالب پیش کرنے کے لیے جوش اور اضطراب پیدا ہوسکتا ہے مگر اس سے یہ ہر گز نہیں سمجھنا چاہیے کہ نماز کو اپنی زبان ہی میں پڑھو۔نہیں میرا یہ مطلب ہے کہ مسنون ادعیہ اور اذکار کے بعد اپنی زبان میں بھی دعا کیا کرو۔ورنہ نماز کے ان الفاظ میں خدا نے ایک برکت رکھی ہوئی ہے۔نماز دعا ہی کا نام ہے۔اس لیے اس میں دعا کرو کہ وہ تم کو دنیا اور آخرت کی آفتوں سے بچاوے اور خاتمہ بالخیر ہو ( حاشیہ میں درج ہے : ”البدر میں مزید فقرہ ہے۔اور تمام کام تمہارے اس کی مرضی کے موافق ہوں) اپنے بیوی بچوں کے لئے بھی دعا کرو۔نیک انسان بنو اور ہر قسم کی بدی سے بچتے رہو۔“ 66 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 435-434 مطبوعہ 2010ء) 63