حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 62 of 148

حقیقتِ نماز — Page 62

حقیقت نماز زبان میں بے شک ادا کرو اور خدا تعالیٰ سے مانگو۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔اس سے نماز ہر گز ضائع نہیں ہوتی۔آج کل لوگوں نے نماز کو خراب کر رکھا ہے۔نمازیں کیا پڑھتے ہیں ٹکریں مارتے ہیں۔نما زتو بہت جلد جلد مرغ کی طرح ٹھونگیں مار کر پڑھ لیتے ہیں اور پیچھے دُعا کے لیے بیٹھے رہتے ہیں۔نماز کا اصل مغز اور روح تو دعا ہی ہے۔نماز سے نکل کر دعا کرنے سے وہ اصل مطلب کہاں حاصل ہوسکتا ہے۔ایک شخص بادشاہ کے دربار میں جاوے اور اس کو اپنا عرض حال کرنے کا موقع بھی ہو لیکن وہ اس وقت تو کچھ نہ کہے لیکن جب دربار سے باہر جاوے تو اپنی درخواست پیش کرے۔اسے کیا فائدہ۔ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جو نماز میں خشوع خضوع کے ساتھ دعائیں نہیں مانگتے تم کو جو دعائیں کرنی ہوں، نماز میں کرلیا کرو اور پورے آداب الدعا کوملحوظ رکھو۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 191 مطبوعہ 2010ء) غرض ظنون فاسده والا انسان ناقص الخلقت ہوتا ہے۔چونکہ اس کے پاس صرف رسمی اُمور ہوتے ہیں اس لیے نہ اس کا دین درست ہوتا ہے نہ دنیا۔ایسے لوگ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نماز کے مطالب سے نا آشنا ہوتے ہیں اور ہر گز نہیں سمجھتے کہ کیا کر رہے ہیں۔نماز میں تو ٹھو نگے مارتے ہیں لیکن نماز کے بعد دعا میں گھنٹہ گھنٹہ گزار دیتے ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ نماز جو اصل دعا کے لئے ہے اور جس کا مغز ہی دعا ہے اس میں وہ کوئی دعا نہیں کرتے۔نماز کے ارکان بجائے خود دعا کے لیے محرک ہوتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 393 مطبوعہ 2010ء) سوال ہوا کہ نماز کے بعد دعا کرنا یہ سنت اسلام میں ہے یا نہیں؟ فرمایا : 62