حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 59 of 148

حقیقتِ نماز — Page 59

حقیقت نماز نماز کے اندر ہر موقعہ پر دعا کی جاسکتی ہے۔رکوع میں بعد تسبیح، سجدہ میں بعد تسبیح ، التحیات کے بعد، کھڑے ہو کر رکوع کے بعد بہت دعائیں کرو تا کہ مالا مال ہو جاؤ۔چاہئے کہ دعا کے واسطے روح پانی کی طرح بہہ جاوے۔ایسی دعا دل کو پاک وصاف کر دیتی ہے۔یہ دعا میسر آوے تو پھر خواہ انسان چار پہر تک دعا میں کھڑا رہے۔گناہوں کی گرفتاری سے بچنے کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگنی چاہئیں۔دعا ایک علاج ہے جس سے گناہ کی زہر دور ہو جاتی ہے۔بعض نادان لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔یہ غلط خیال ہے۔ایسے لوگوں کی نما ز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 55-54 مطبوعہ 2010ء) یہ بھی یا درکھو دعا اپنی زبان میں بھی کر سکتے ہو بلکہ چاہئے کہ مسنون ادعیہ کے بعد اپنی زبان میں آدمی دعا کرے کیونکہ اس زبان میں وہ پورے طور پر اپنے خیالات اور حالات کا اظہار کر سکتا ہے۔اس زبان میں وہ قادر ہوتا ہے۔دعا نماز کا مغز اور روح ہے اور رسمی نماز جب تک اس میں روح نہ ہو کچھ نہیں اور روح کے پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ گریہ و بکا اور خشوع و خضوع ہو اور یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی حالت کو بخوبی بیان کرے اور ایک اضطراب اور قلق اس کے دل میں ہو اور یہ بات اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک اپنی زبان میں انسان اپنے مطالب کو پیش نہ کرے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 4 مطبوعہ 2010ء) 59