حقیقتِ نماز — Page 54
حقیقت نماز فاتحہ، فتح کرنے کو بھی کہتے ہیں۔مومن کو مومن اور کافر کو کافر بنا دیتی ہے۔یعنی دونوں میں ایک امتیاز پیدا کر دیتی ہے اور دل کو کھولتی ، سینہ میں ایک انشراح پیدا کرتی ہے۔اس لئے سورۃ فاتحہ کو بہت پڑھنا چاہئے اور اس دعا پر خوب غور کرنا ضروری ہے۔انسان کو واجب ہے کہ وہ ایک سائل کامل اور محتاج مطلق کی صورت بناوے اور جیسے ایک فقیر اور سائل نہایت عاجزی سے کبھی اپنی شکل سے اور کبھی آواز سے دوسرے کو رحم دلاتا ہے اسی طرح سے چاہئے کہ پوری تفرع اور ابتہال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض حال کرے۔پس جب تک نماز میں تضرع سے کام نہ لے اور دعا کے لئے نماز کو ذریعہ قرار نہ دے نماز میں لذت کہاں ؟“ ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ : ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 402 مطبوعہ 2010ء) نماز اصل میں دعا ہے۔نماز کا ایک ایک لفظ جو بولتا ہے وہ نشانہ دعا کا ہوتا ہے۔اگر نماز میں دل نہ لگے تو پھر عذاب کے لیے تیار رہے، کیونکہ جو شخص دعا نہیں کرتا وہ سوائے اس کے کہ ہلاکت کے نزدیک خود جاتا ہے اور کیا ہے۔ایک حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے کہ میں دکھیاروں کا دکھ اُٹھاتا ہوں۔مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔میں بہت رحم کرتا ہوں۔بیکسوں کی امداد کرتا ہوں۔لیکن ایک شخص جو کہ مشکل میں مبتلا ہے۔اس کے پاس سے گذرتا ہے اور اس کی ندا کی پروا نہیں کرتا نہ اپنی مشکل کا بیان کر کے طلب امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہوگا۔یہی حال خدا تعالیٰ کا ہے کہ وہ تو ہر وقت انسان کو آرام دینے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ کوئی اس سے درخواست 54