حقیقتِ نماز — Page 49
حقیقت نماز نماز اصل میں ایک دعا ہے نماز اور دعا ”نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے،مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔اس کے غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا تسبیح اور تہلیل میں مصروف رہے بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 101 مطبوعہ 2010ء) پھر نماز کیا ہے؟ یہ ایک دعا ہے جس میں پورا درد اور سوزش ہو۔اسی لئے اس کا نام صلوۃ ہے۔کیونکہ سوزش اور فرقت اور درد سے طلب کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بدا را دوں اور برے جذبات کو اندر سے دور کرے اور پاک محبت اس کی جگہ اپنے فیض عام کے ماتحت پیدا کر دے۔صلوة کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ نرے الفاظ اور دعا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ایک سوزش، رقت اور درد ساتھ ہو۔خدا تعالیٰ کسی دعا کو نہیں سنتا جب تک دعا کرنے والا موت تک نہ پہنچ جاوے۔دعا مانگنا ایک مشکل امر ہے اور لوگ اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں۔بہت سے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت فلاں امر کے لئے دعا کی تھی مگر اُس کا اثر نہ ہوا اور اس طرح پر وہ خدا تعالیٰ سے بدظنی 49