حقیقتِ نماز — Page 46
حقیقت نماز ڈالتا ہے لیکن جب کامل کا درجہ ملے گا تو ہر وقت نماز میں ہی رہے گا اور ہزاروں روپیہ کی تجارت اور مفاد بھی اُس میں کوئی حرج اور روک نہیں ڈال سکتا۔اسی طرح پر باقی جو کیفیتیں ہیں وہ نرے قال کے رنگ میں نہ ہوں گی، اُن میں حالی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور غیب سے شہود پر پہنچ جائے گا۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 123-122 مطبوعہ 2010ء) اقامت صلوۃ سے اگلا درجہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نماز میں وساوس کو فی الفور دُور کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ کی منشاء کچھ اور ہے۔کیا خدا نہیں جانتا؟ حضرت شیخ عبد القادر گیلانی ( رحمتہ اللہ علیہ ) کا قول ہے کہ ثواب اس وقت تک ہے جب تک مجاہدات ہیں اور جب مجاہدات ختم ہوئے ، تو ثواب ساقط ہوجاتا ہے۔گو یا صوم وصلوٰۃ اُس وقت تک اعمال ہیں جب تک ایک جدو جہد سے وساوس کا مقابلہ ہے لیکن جب اُن میں ایک اعلیٰ درجہ پیدا ہو گیا اور صاحب صوم وصلوۃ تقویٰ کے تکلف سے بچ کر صلاحیت سے رنگین ہو گیا تو اب صوم وصلوٰۃ اعمال نہیں رہے۔اس موقعہ پر انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب نماز معاف ہو جاتی ہے؟ کیونکہ ثواب تو اُس وقت تھا، جس وقت تک تکلف کرنا پڑتا تھا۔سو بات یہ ہے کہ نماز اب عمل نہیں بلکہ ایک انعام ہے۔یہ نماز اس کی ایک غذا ہے جو اس کے لیے قرة العین ہے یہ گویا نقد بہشت ہے۔“ ،، ( ملفوظات جلد اول صفحہ 19-18 مطبوعہ 2010ء) 46