حقیقتِ نماز — Page 45
حقیقت نماز روحانیہ سے سراسر معمور ہو اور دنیوی رذایل اور انواع و اقسام کے معاصی قولی اور فعلی اور بصری اور سماعی سے دل کو متنفر کر دے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ “ ( ہود ۱۱۵) (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 139-138 مطبوعہ 2021ء) اور پھر نماز کو کھڑی کرتے ہیں۔یعنی نماز میں ابھی پورا سرور اور ذوق پیدا نہیں ہوتا ، تا ہم بے لطفی اور بے ذوقی اور وساوس میں ہی نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ تجھ پر یا تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اُس پر ایمان لاتے ہیں۔ی متقی کے ابتدائی مدارج ہیں اور صفات ہیں۔۔۔اسی طرح پر نماز کے متعلق ابتدائی حالت تو یہی ہوگی جو یہاں بیان کی کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں یعنی نماز گویا گری پڑتی ہے۔گرنے سے مراد یہ ہے کہ اُس میں ذوق اور لذت نہیں۔بے ذوقی اور وساوس کا سلسلہ ہے۔اس لئے اس میں وہ کشش اور جذب نہیں کہ انسان جیسے بھوک پیاس سے بیقرار ہو کر کھانے اور پانی کے لئے دوڑتا ہے اسی طرح پر نماز کے لئے دیوانہ وار دوڑے لیکن جب وہ ہدایت پاتا ہے تو پھر یہ صورت نہیں رہے گی۔اُس میں ایک ذوق پیدا ہو جائے گا۔وساوس کا سلسلہ ختم ہو کر اطمینان اور سکینت کا رنگ شروع ہو گا۔کہتے ہیں کسی شخص کی کوئی چیز گم ہوگئی تو اُس نے کہا کہ ذرا ٹھہر جاؤ نماز میں یاد آجائے گی۔یہ نماز کاملوں کی نہیں ہوا کرتی کیونکہ اس میں تو شیطان انہیں وسوسہ 45