حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 40 of 148

حقیقتِ نماز — Page 40

حقیقت نماز ا قام الصلوۃ کا مفہوم اقام الصلوۃ میں کوشش کا ثواب اس کے بعد متقی کی شان میں آیا ہے۔وَيُقِيمُونَ الصَّلوة (البقرہ ۴) یعنی وہ نماز کو کھڑی کرتا ہے۔یہاں لفظ کھڑی کرنے کا آیا ہے۔یہ بھی اس تکلف کی طرف اشارہ کرتا ہے جو متقی کا خاصہ ہے۔یعنی جب وہ نماز شروع کرتا ہے تو طرح طرح کے وساوس کا اُسے مقابلہ ہوتا ہے جن کے باعث اُس کی نماز گویا بار بار گری پڑتی ہے، جس کو اس نے کھڑا کرنا ہے۔جب اس نے اللہ اکبر کہا تو ایک ہجوم وساوس ہے جو اُس کے حضورِ قلب میں تفرق ڈال رہا ہے۔وہ اُن سے کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے۔پریشان ہوتا ہے۔ہر چند حضور وذوق کے لیے لڑ تا مرتا ہے لیکن نماز جوگری پڑتی ہے بڑی جان گنی سے اُسے کھڑا کرنے کی فکر میں ہے۔بار بار اتياكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر نماز کے قائم کرنے کے لئے دُعامانگتا ہے اور ایسے الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی ہدایت چاہتا ہے جس سے اُس کی نماز کھڑی ہو جائے۔ان وساوس کے مقابل میں متقی ایک بچہ کی طرح ہے، جو خدا کے آگے گڑ گڑاتا ہے۔روتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف ۱۷۷) ہورہا ہوں۔سو یہی وہ جنگ ہے جو متقی کو نماز میں نفس کے ساتھ کرنی ہوتی ہے اور اسی پر ثواب مترتب ہوگا۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 19-18 مطبوعہ 2010ء) 40