حقیقتِ نماز — Page 34
حقیقت نماز گھٹ گئی ( حاشیہ میں درج ہے : اور اس کے نور کی روح کھینچ لی گئی ہے ) اور اب وہ مجرم قرار پا گیا۔اس کے بعد مغرب کا وقت آتا ہے۔یہ وہ وقت ہے جب آفتاب غروب ہو جاتا ہے اور یہ اس وقت سے مشابہ ہے کہ جب حاکم نے اپنا آخری حکم اُسکے لئے سناد یا اور عشاء کا وقت اس سے مشابہ ہے کہ جب وہ جیل چلا جاوئے۔( حاشیہ میں درج ہے : کیونکہ تمام روشنی جاتی رہی اور چاروں طرف سے اُس پر تاریکی چھا گئی اور وہ قید خانے میں پڑا ہے۔) اور پھر فجر کا وقت ہے جب اُس کی رہائی ہو جاوے۔(حاشیہ میں درج ہے : راس لمبی تاریکی کے بعد پھر فجر کا وقت آتا ہے جبکہ وہ قید خانہ سے رہائی پانے لگتا ہے اور دوبارہ اُس پر روشنی کا پر تو پڑتا ہے اور اس کے ارد گر دنور چمکتا ہے۔یہ پانچ اوقات انسان کے حال پر لازم رکھے گئے ہیں اور ان پانچوں حالتوں کی یاد میں جو کہ اُس پر آنے والی ہیں وہ روزانہ خدا تعالیٰ کے حضور میں دعائیں کرتا ہے کہ وہ ان مشکلات سے بچایا جاوے۔) ان حالات کے ماتحت ایسے انسان کا در دوسوزش ہر آن بڑھتی جاوے گی۔یہانتک کہ آخر اس کی سوزش و اضطراب اس کے لئے وہ وقت لے آوے کہ وہ نجات پا جاوے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحه 95-94 مطبوعہ 2010ء) 34