حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 28 of 148

حقیقتِ نماز — Page 28

حقیقت نماز پھر دوسرا حکم یہ ہے کہ جمعہ کے دن جامع مسجد میں جمع ہوں کیونکہ ایک شہر کے لوگوں کا ہر روز جمع ہونا تو مشکل ہے۔اس لیے یہ تجویز کی کہ شہر کے سب لوگ ہفتہ میں ایک دفعہ مل کر تعارف اور وحدت پیدا کریں۔آخر کبھی نہ کبھی تو سب ایک ہو جائیں گے۔پھر سال کے بعد عیدین میں یہ تجویز کی کہ دیہات اور شہر کے لوگ مل کر نماز ادا کریں تا کہ تعارف اور انس بڑھ کر وحدت جمہوری پیدا ہو۔پھر اسی طرح تمام دنیا کے اجتماع کے لیے ایک دن عمر بھر میں مقرر کر دیا کہ مکہ کے میدان میں سب جمع ہوں۔غرضیکہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ آپس میں الفت اور اُنس ترقی پکڑے۔افسوس کہ ہمارے مخالفوں کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام کا فلسفہ کیسا لگا ہے۔دنیوی حکام کی طرف سے جو احکام پیش ہوتے ہیں اُن میں تو انسان ہمیشہ کے لئے ڈھیلا ہوسکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے احکام میں ڈھیلا پن اور اس سے بکلی روگردانی کبھی ممکن ہی نہیں۔کونسا ایسا مسلمان ہے جو کم از کم عیدین کی بھی نماز نہ ادا کرتا ہو۔پس ان تمام اجتماعوں کا یہ فائدہ ہے کہ ایک کے انوار دوسرے میں اثر کر کے اُسے قوت بخشیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 101-100 مطبوعہ 2010ء) 28 20