حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 27 of 148

حقیقتِ نماز — Page 27

حقیقت نماز سال کے بعد عید گاہ میں جمع ہوں۔اور کل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ بیت اللہ میں اکٹھے ہوں۔ان تمام احکام کی غرض وہی وحدت ہے۔لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 282-281 مطبوعہ 2021ء) اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نفس واحد کی طرح بنا دے۔اس کا نام وحدت جمہوری ہے جس سے بہت سے انسان بحالت مجموعی ایک انسان کے حکم میں سمجھا جاتا ہے۔مذہب سے بھی یہی منشاء ہوتا ہے کہ تسبیح کے دانوں کی طرح وحدت جمہوری کے ایک دھاگہ میں سب پروئے جائیں۔یہ نمازیں باجماعت جو کہ ادا کی جاتی ہیں وہ بھی اسی وحدت کے لیے ہیں تاکہ کل نمازیوں کا ایک وجود شمار کیا جاوے اور آپس میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم اس لیے ہے کہ جس کے پاس زیادہ نور ہے وہ دوسرے کمزور میں سرایت کر کے اسے قوت دیوے۔حتی کہ حج بھی اسی لیے ہے۔اس وحدتِ جمہوری کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی ابتدا اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے کی ہے کہ اوّل یہ حکم دیا کہ ہر ایک محلہ والے پانچ وقت نمازوں کو باجماعت محلہ کی مسجد میں ادا کریں تا کہ اخلاق کا تبادلہ آپس میں ہو اور انواریل ملا کر کمزوری کو دور کر دیں اور آپس میں تعارف ہو کر انس پیدا ہو جاوے۔تعارف بہت عمدہ شے ہے کیونکہ اس سے انس بڑھتا ہے جو کہ وحدت کی بنیاد ہے۔حتی کہ تعارف والا دشمن ایک نا آشنا دوست سے بہت اچھا ہوتا ہے کیونکہ جب غیر ملک میں ملاقات ہو تو تعارف کی وجہ سے دلوں میں اُنس پیدا ہو جاتا ہے۔وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ کینہ والی زمین سے الگ ہونے کے باعث بغض جو کہ عارضی شے ہوتا ہے وہ تو ڈور ہو جاتا ہے اور صرف تعارف باقی رہ جاتا ہے۔27