حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 26 of 148

حقیقتِ نماز — Page 26

حقیقت نماز ہے جو بندہ کو پروردگار عالم تک پہنچاتی ہے۔اس کے ذریعہ (انسان ) ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں گھوڑوں کی پیٹھوں پر ( بیٹھ کر ) نہ پہنچ سکتا۔اور نماز کا شکار ( ثمرات ) تیروں سے حاصل نہیں کیا جاسکتا، اس کارا از قلموں سے ظاہر نہیں ہوسکتا ہے اور جس شخص نے اس طریق کو لازم پکڑا اُس نے حق اور حقیقت کو پالیا اور اس محبوب تک پہنچ گیا جو غیب کے پردوں میں ہے اور شک و شبہ سے نجات حاصل کر لی۔پس تو دیکھے گا کہ اس کے دن روشن ہیں، اُس کی باتیں موتیوں کی مانند ہیں اور اُس کا چہرہ چودھویں کا چاند ہے۔اُس کا مقام صدرنشینی ہے۔جو شخص نماز میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی سے جھکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے 66 لئے بادشاہوں کو جھکا دیتا ہے اور اس مملوک بندہ کو مالک بنا دیتا ہے۔“ دیتا اور اعجاز لمسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 167-165 مطبوعہ 2021ء) نماز باجماعت کا مقصد اور حکمت نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے۔اور پھر اِس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں۔وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔یہ خوب یا درکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔پھر اسی وحدت کیلئے حکم ہے کہ روزانہ نمازیں محلہ کی مسجد میں اور ہفتہ کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر 26