حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 23 of 148

حقیقتِ نماز — Page 23

حقیقت نماز ”میرا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مسلمان سُست ہو جاویں۔اسلام کسی کوئست نہیں بناتا۔اپنی تجارتوں اور ملازمتوں میں بھی مصروف ہوں ، مگر میں یہ نہیں پسند کرتا کہ خدا کے لئے اُن کا کوئی وقت بھی خالی نہ ہو۔ہاں تجارت کے وقت پر تجارت کریں اور اللہ تعالیٰ کے خوف وخشیت کو اُس وقت بھی مد نظر رکھیں تا کہ وہ تجارت بھی اُن کی عبادت کا رنگ اختیار کرلے۔نمازوں کے وقت پر نمازوں کو نہ چھوڑیں۔ہر معاملہ میں کوئی ہو دین کو مقدم کریں۔دنیا مقصود بالذات نہ ہو۔اصل مقصود دین ہو۔پھر دنیا کے کام بھی دین ہی کے ہوں گے۔صحابہ کرام کو دیکھو کہ انہوں نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی خدا کو نہیں چھوڑا۔لڑائی اور تلوار کا وقت ایسا خطرناک ہوتا ہے کہ محض اُس کے تصور سے ہی انسان گھبرا اٹھتا ہے۔وہ وقت جبکہ جوش اور غضب کا وقت ہوتا ہے، ایسی حالت میں بھی وہ خدا سے غافل نہیں ہوئے۔نمازوں کو نہیں چھوڑا۔دعاؤں سے کام لیا۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 410 مطبوعہ 2010ء) اپنے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت کا سلسلہ جاری رکھیں اور اس کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی شے نہیں ہے۔کیونکہ روزے تو ایک سال کے بعد آتے ہیں۔اور زکوۃ صاحب مال کو دینی پڑتی ہے۔مگر نماز ہے کہ ہر ایک ( حیثیت کے آدمی ) کو پانچوں وقت ادا کرنی پڑتی ہے، اسے ہرگز ضائع نہ کریں۔اسے بار بار پڑھو اور اس خیال سے پڑھو کہ میں ایسی طاقت والے کے سامنے کھڑا ہوں کہ اگر اس کا ارادہ ہو تو ابھی قبول کر لیوے۔اُسی حالت میں بلکہ اسی ساعت میں بلکہ اُسی سیکنڈ میں۔کیونکہ دوسرے دنیاوی حاکم تو خزانوں کے محتاج ہیں۔اور ان کو فکر ہوتی ہے کہ خزانہ خالی نہ ہو جاوے اور 23