حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 22 of 148

حقیقتِ نماز — Page 22

حقیقت نماز جو تک میرے ارادے، نا پاک اور گندے منصوبے بقسم نہ ہوں، انانیت اور مشینی کا دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے ، خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری رُوح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 108 مطبوعہ 2010ء) فرمایا : ”جس طرح بہت دھوپ کے ساتھ آسمان پر بادل جمع ہو جاتے ہیں اور بارش کا وقت آجاتا ہے۔ایسا ہی انسان کی دعائیں ایک حرارتِ ایمانی پیدا کرتی ہیں اور پھر کام بن جاتا ہے۔نماز وہ ہے جس میں سوزش اور گدازش کے ساتھ اور آداب کے ساتھ انسان خدا کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔جب انسان بندہ ہو کر لا پروائی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی معنی ہے۔ہر ایک اُمت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے۔اے نادانو ! خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تعالی تمہاری طرف توجہ کرے۔خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔نما ز ہزاروں خطاؤں کو دُور کر دیتی ہے اور ذریعۂ حصول قرب الہی ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 292 مطبوعہ 2010ء) 22