حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 21 of 148

حقیقتِ نماز — Page 21

حقیقت نماز چیز ہے تا کہ اولاوہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خود آجاتا ہے جبکہ انقطاع کلی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہو جاتا ہے۔میں اس امر کو پھر تاکید سے کہتا ہوں۔افسوس ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں ملے جس میں غیر اللہ کی طرف رُجوع کرنے کی برائیاں بیان کرسکوں۔لوگوں کے پاس جا کرمنت خوشامد کرتے ہیں۔یہ بات خدا تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے۔پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دُور پھینک دیتا ہے۔میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں۔گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آسکتا ہے کہ جیسے ایک مرد غیور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بسا اوقات ایسی وارداتیں ہو جاتی ہیں۔ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ہے۔عبودیت اور دعا خاص اسی ذات کے مد مقابل ہیں۔وہ پسند نہیں کر سکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکارا جاوے۔پس خوب یادرکھو! اور پھر یا درکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔نماز اور توحید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے۔اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اُس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحه 107-106 مطبوعہ (2010ء) ”بے شک اصل اور سچ یونہی ہے۔جبتک انسان کامل توحید پر کار بند نہیں ہوتا، اُس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔اور پھر میں اصل ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ نماز کی لذت اور شرور اُسے حاصل نہیں ہوسکتا۔مدار اسی بات پر ہے کہ 21