حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 132 of 148

حقیقتِ نماز — Page 132

حقیقت نماز انسان میں نیکی کا خیال ضرور ہے۔پس اس خیال کے واسطے اس کو امداد الہی کی بہت ضرورت ہے۔اسی لیے پنجوقتہ نماز میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کا حکم دیا۔اس میں ایاک نَعْبُدُ اور پھر اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی عبادت بھی تیری ہی کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے یعنی ہر نیک کام میں قویٰ ، تدابیر، جدو جہد سے کام لیں۔یہ اشارہ ہے نعبد کی طرف کیونکہ جو شخص نیری دعا کرتا اور جدو جہد نہیں کرتا وہ بہرہ یاب نہیں ہوتا۔جیسے کسان بیج بو کر اگر جد و جہد نہ کرے تو پھل کا امیدوار کیسے بن سکتا ہے اور یہ سنت اللہ ہے۔اگر بیج بو کر صرف دعا کرتے ہیں تو ضرور محروم رہیں گے۔مثلاً دو کسان ہیں، ایک تو سخت محنت اور کلبہ رانی کرتا ہے یہ تو ضرور زیادہ کامیاب ہوگا۔دوسرا کسان محنت نہیں کرتا یا کم کرتا ہے۔اس کی پیداوار ہمیشہ ناقص رہے گی جس سے وہ شاید سرکاری محصول بھی ادا نہ کر سکے اور وہ ہمیشہ مفلس رہے گا۔اسی طرح دینی کام بھی ہیں۔انہیں میں منافق ، انہیں میں نکھے ، انہیں میں صالح ، انہیں میں ابدال، قطب، غوث بنتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک درجہ پاتے ہیں اور بعض چالیس چالیس برس سے نماز پڑھتے ہیں مگر ہنوز روز اول ہی ہے اور کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تھیں روزوں سے کوئی فائدہ محسوس نہیں کرتے۔بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم بڑے متقی اور مدت کے نماز خواہ ہیں مگر ہمیں امداد الہی نہیں ملتی۔اس کا سبب یہ ہے کہ رسمی اور تقلیدی عبادت کرتے ہیں۔ترقی کا کبھی خیال نہیں۔گناہوں کی جستجو ہی نہیں۔سچی تو بہ کی طلب ہی نہیں۔پس وہ پہلے قدم پر ہی رہتے ہیں۔ایسے انسان بہائم سے کم نہیں۔ایسی نمازیں خدا کی طرف سے ویل لاتی ہیں۔نما ز تو وہ ہے جو اپنے ساتھ ترقی لے آوے۔جیسے طبیب 132