حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 131 of 148

حقیقتِ نماز — Page 131

حقیقت نماز کو اپنے قول کا علم ضروری ہے اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ : جن لوگوں کو ساری عمر میں تعلَمُوا نصیب نہ ہو ان کی نماز ہی کیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 265 مطبوعہ 2010ء) جوشخص تقویٰ اختیار نہیں کرتا وہ معاصی میں غرق رہتا ہے اور بہت ساری رکاوٹیں اُس کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔لکھا ہے کہ ایک ولی اللہ کسی شہر میں رہتے تھے۔ان کی ہمسائگت میں ایک دنیادار بھی رہتا تھا۔ولی ہر روز تہجد پڑھا کرتا تھا۔ایک دفعہ دنیا دار کے دل میں خیال آیا کہ شخص جو ہر روز تہجد پڑھا کرتا ہے میں بھی تہجد پڑھوں۔غرض یہی ارادہ ھم کر کے وہ ایک رات اُٹھا اور تہجد کی نماز پڑھی۔اس کو تہجد پڑھنے سے اس قدر تکلیف ہوئی کہ کمر میں درد شروع ہو گیا۔اس ولی اللہ کو خبر ملی کہ رات اُن کے دنیا دار ہمسایہ نے تہجد کی نماز پڑھی تھی تو اس کے سبب سے اس کی کمر میں درد ہونے لگا ہے۔وہ عیادت کے لیے آیا اور اس سے حال پوچھا۔دنیا دار نے کہا میں آپ کو دیکھا کرتا تھا کہ آپ ہر رات تہجد پڑھتے ہیں۔میرے خیال میں بھی آیا کہ میں بھی تہجد پڑھوں۔سو آج رات میں تہجد پڑھنے اٹھا اور یہ مصیبت مجھ پر آ گئی۔اس نے جواب میں کہا کہ تجھے اس فضول سے کیا؟ پہلے چاہیے تھا کہ تو اپنے آپ کو صاف کرتا اور پھر تہجد کا ارادہ کرتا۔اللہ تعالیٰ کی اجابت بھی متقین کے لیے ہے۔چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اتما يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائده (۲۸) در حقیقت انسان جب تک تقویٰ اختیار نہ کرے اُس وقت تک اللہ تعالیٰ اُس کی طرف رجوع نہیں کرتا۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 43-42 مطبوعہ 2010ء) 131