حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 125 of 148

حقیقتِ نماز — Page 125

حقیقت نماز غلام نہیں ہے اور اس حالت میں ہونا ایک حد تک ضروری بھی ہے۔اس سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں بڑے بڑے ثواب ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود بخود نور اور سکینت نازل کرتا ہے۔خدا کی رحمت کا وقت آتا ہے اور ایک ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور وہ بات ہوا ہو جاتی ہے۔انسان کو چاہیے کہ تھک نہ جاوے۔سجدہ میں یا حی یا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ بہت پڑھا کرولیکن یاد رکھو کہ جلد بازی خوفناک ہے۔اسلام میں انسان کو بہادر بننا چاہیے۔برسوں کی محنت ومشقت کے بعد آخر شیطان کے حملے کمزور ہو جاتے ہیں اور وہ بھاگ جاتا ہے۔“ 66 ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 267 مطبوعہ 2010ء) ایک شخص نے سوال کیا مجھے نماز میں وساوس اور ادھر اُدھر کے خیالات بہت پیدا ہوتے ہیں۔فرمایا : اس کی اصل جڑ امن اور غفلت ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کے عذاب سے غافل ہو کر امن میں ہو جاتا ہے تب وساوس ہوتے ہیں۔دیکھو زلزلے کے وقت اور کشتی میں بیٹھ کر جب کشتی خوفناک مقام پر پہنچتی ہے سب اللہ اللہ کرتے ہیں اور کسی کے دل میں وساوس پیدا نہیں ہوتے۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 284 مطبوعہ 2010ء) بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو نمازوں میں لذت نہیں آتی۔مگر وہ نہیں جانتے کہ لذت اپنے اختیار میں نہیں ہے اور لذت کا معیار بھی الگ ہے۔ایسا ہوتا ہے کہ ایک 125