حقیقتِ نماز — Page 121
حقیقت نماز سوال : کبھی نماز میں لذت آتی ہے اور کبھی وہ لذت جاتی رہتی ہے اس کا کیا علاج ہے؟ جواب : ”ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ اس لذت کے کھوئے جانے کو محسوس کرنے اور پھر اس کو حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔جیسے چور آوے اور وہ مال اُڑا کر لے جاوے تو اس کا افسوس ہوتا ہے اور پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ آئندہ اس خطرہ سے محفوظ رہے۔اس لئے معمول سے زیادہ ہوشیاری اور مستعدی سے کام لیتا ہے۔اسی طرح پر جو خبیث نماز کے ذوق اور انس کو لے گیا ہے تو اس سے کس قدر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے؟ اور کیوں نہ اس پر افسوس کیا جاوے؟ انسان جب یہ حالت دیکھے کہ اس کا انس و ذوق جاتا رہا ہے تو وہ بے فکر اور بے غم نہ ہو۔نماز میں بے ذوقی کا پیدا ہونا ایک سارق کی چوری اور روحانی بیماری ہے۔جیسے ایک مریض کے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے تو وہ فی الفور علاج کی فکر کرتا ہے۔اسی طرح پر جس کا روحانی مذاق بگڑ جاوے اس کو بہت جلد اصلاح کی فکر کرنی لازم ہے۔یا درکھو انسان کے اندر ایک بڑا چشمہ لذت کا ہے۔جب کوئی گناہ اس سے سرزد ہوتا ہے تو وہ چشمہ لذت مکڈ ر ہو جاتا ہے اور پھر لذت نہیں رہتی۔مثلاً جب ناحق گالی دے دیتا ہے یا ادنی ادنی سی بات پر بد مزاج ہوکر بدزبانی کرتا ہے تو پھر ذوقِ نما ز جاتا رہتا ہے۔اخلاقی قومی کو لذت میں بہت بڑا دخل ہے۔جب انسانی قوی میں فرق آئے گا تو اس کے ساتھ ہی لذت میں بھی فرق آجاوے گا۔پس جب کبھی ایسی حالت ہو کہ انس اور ذوق جو نماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا ہے تو چاہیے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گمشدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے 121