حقیقتِ نماز — Page 57
حقیقت نماز سبیت الدعا میں بیٹھتے ہیں۔یہ دونوں وقت قبولیت کے ہیں۔نماز میں تکلیف نہیں۔سادگی کے ساتھ اپنی زبان میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرے۔“ نماز کے اندر اپنی زبان میں دعا مانگنا وو ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 283 مطبوعہ 2010ء) یہ ضروری بات نہیں ہے کہ دعائیں عربی زبان میں کی جاویں۔چونکہ اصل غرض نماز کی تضرع اور ابتہال ہے، اس لئے چاہیئے کہ اپنی مادری زبان میں ہی کرے۔انسان کو اپنی مادری زبان سے ایک خاص انس ہوتا ہے اور پھر وہ اس پر قادر ہوتا ہے۔دوسری زبان سے خواہ اس میں کس قدر بھی دخل اور مہارت کامل ہو، ایک قسم کی اجنبیت باقی رہتی ہے۔اس لئے چاہئے کہ اپنی مادری زبان میں ہی دعائیں مانگے۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 402 مطبوعہ 2010ء) فرمایا: ”نماز کے اندر ہی اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔سجدہ میں ، بیٹھ کر ، رکوع میں کھڑے ہو کر، ہر مقام پر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔بیشک پنجابی زبان میں دعائیں کرو۔جن لوگوں کی زبان عربی نہیں اور عربی سمجھ نہیں سکتے اُن کے واسطے ضروری ہے کہ نماز کے اندر ہی قرآن شریف پڑھنے اور مسنون دعائیں عربی میں پڑھنے کے بعد اپنی زبان میں بھی خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگے اور عربی دعاؤں کا اور قرآن شریف کا بھی ترجمہ سیکھ لینا چاہئے۔نماز کو صرف جنتر منتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ اس کے معانی اور حقیقت سے معرفت حاصل کرو۔خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ ہم تیرے گنہگار بندے ہیں اور نفس غالب ہے تو ہم کو معاف کر اور دنیا اور آخرت کی آفتوں سے ہم کو بچا۔57