حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 76
زیادہ چشموں والا ہے اب ہم کشمیر کے متعلق بھی کچھ غور کرتے ہیں کہ اس جگہ کون لوگ آباد ہیں کیا مسیح ان میں آئے تھے؟۔بڑی عجیب بات ہے کہ اس علاقہ کشمیر کا سفر کرنے والے محققوں اور سیاحوں نے پہلی نظر ہی میں ان کو اسرائیلی نسل قرار دیا۔ان کا طرز زندگی ، شرخ و سپید رنگ اور تیکھے خدوخال ، ان کا لباس اور طرز بود و باش ، ہر لحاظ سے اسرائیلیوں سے ملتے ہیں اور ہر کوئی دیکھنے والا ان کو پہلی نظر میں ہی اسرائیلی نسل کہتا ہے۔چنانچہ ایک مغربی اسکالر اور سیاح جارج فاسٹر -: (GEORGE FORSTER) لکھتا ہے کہ کشمیریوں کے ملک میں جاکر اور انہیں پہلی دفعہ دیکھ کر ان کے لباس ، ان کے خدوخال کی بناوٹ اور ان کے کھانوں کی اقسام کا مشاہدہ کر کے میں یوں محسوس کرنے لگا کہ گویا کہ یہودیوں کی قوم میں آگیا ہوں۔“ TO FORSTER (LETTERS ON A JOURNEY FROM BENGAL GEORGE BY ENGLAND PUBLISHED BY FOULDER LONDON 1908) و کشمیر میں ایک مقام عیش کے نام سے موسوم ہے جو کہ سرینگر سے ۴۷ یل کے فاصلہ پر ہے وہاں حضرت زین الدین ولی کا روضہ ہے اس میں ایک عصا موجود ہے کشمیریوں کا کہنا ہے کہ یہ عصائے موسیٰ ہے۔کہتے ہیں کہ یہ عصا حضرت میر سید علی ہمدانی نے شیخ العالم شیخ نور الدین صاحب کو عطا کیا تھا جن کا روضہ چرار شریف میں ہے اور انہوں نے یہ عصا حضرت زین الدین ولی کو بخشا تھا اور تب سے اس درگاہ میں ہے جب بھی کوئی آفت یا بیماری گاؤں میں پھوٹتی ہے تو اس عصا کو باہر نکالتے ہیں تو بیماری ختم ہو جاتی ہے۔( بحوالہ حضرت عیسی علیہ السلام اور عیسائیت مصنفہ ڈاکٹر عزیز احمد عزیز کاشمیری صفحہ ۷۲، ۷۳) اس طرح سے کوہ سلیمانی کے تعلق سے کشمیر کی تاریخ میں ذکر ہے اور اس پر بنے مندر کا آرٹ مکمل طور پر یہودی آرٹ کا آئینہ دار ہے کشمیری زبان میں اکثر الفاظ عبرانی کے