حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 64 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 64

۶۴ میں کامیاب ہو سکے یا نہیں آپ یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ مسیح زندہ ہونے کی صورت میں قبر سے باہر آ گئے تھے اور آپ کا جسم وہی تھا جو صلیب پر چڑھایا گیا جس میں سے خون نکلا پھر بے ہوش رہا اور ہوش میں آکر اپنے شاگردوں کو ملے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کسی پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اُس سے بچ جائے تو پھر وہ اپنے آپ کو چھپاتا ہے کہ تا پھر نہ پکڑا جا کر کسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے۔آپ جب ہوش میں آکر قبر سے باہر آگئے تو آپ کی یہی حالت تھی کہ آپ لوگوں سے چھپتے تھے اور لوگوں کو بھی اس بات سے منع کرتے تھے کہ وہ کسی کے سامنے اس بات کا ذکر نہ کریں اور یہ ایک بشری تقاضا ہی نہیں بلکہ مومنانہ فراست اور حکمت کا بھی یہی تقاضا تھا۔آپ کے خوف کھانے اور ڈرنے اور دوسروں کے سامنے ذکر نہ کرنے کی تلقین کرنے کے بعض حوالے اس جگہ درج کرتا ہوں بائبل میں لکھا ہے کہ : -: " یسوع نے اُس سے کہا مریم ! وہ پھر کر اُس سے عبرانی زبان میں بولی ربونی ! اے استاد! “ (یوحنا باب ۲۰ آیت (۱۶) یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب مریم قبر پر آئیں تو مسیح کو وہاں نہ پا کر ایک شخص کو باغبان سمجھ کر یہ پوچھا کہ تم کو پتا ہے کہ مسیح کہاں ہیں اس پر آپ نے جب بات کی تو مریم نے آپ کو پہچان لیا۔جو کہ آپ کے پوشیدہ ہونے کی بین دلیل ہے کہ آپ کے ظاہر سے مریم بھی آپ کو نہ پہچان سکیں۔اسی طرح لکھا ہے کہ :- دو ان باتوں کے بعد یسوع نے پھر اپنے آپ کو طبر یاس کی جھیل کے کنارے شاگردوں پر ظاہر کیا اور اس طرح ظاہر کیا۔“ (یوحنا باب ۲۱ آیت۱)