حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 60
انکشاف جو اس مقدس کفن سے ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کفن میں بہت سا خون لگا ہوا ہے اور وہ جگہیں جو زخمی جسم کے ساتھ لگی تھیں بہت زیادہ خون آلود ہیں۔ہاتھوں اور پیروں کے زخموں سے نکلنے والا خون صاف دکھائی دیتا ہے۔اور اس کپڑے کو دیکھ کر یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ مسیح کو اس کپڑے میں کس طرح لٹایا گیا تھا۔بائیل میں آیا ہے کہ مسیح کو جب صلیب سے اُتارا جانے لگا تو ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر اُس کی پہلی چھید دی جس میں سے خون اور پانی فی الفور بہہ نکلا۔اس کپڑے پر وہ پسلی کا چھیدا ہوا نشان بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے جو کہ مسیح کے دائیں طرف پانچویں اور چھٹی پسلی کے درمیان ہوا تھا اور اس میں سے کافی مقدار میں خون نکلا ہے۔سائنسدانوں کا یہ کہنا ہے کہ اس کپڑے میں لگے خون کو دیکھ کر یہ بات یقین کی حد تک جا پہنچتی ہے کہ جب مسیح کو اس کپڑے میں لپیٹا گیا تھاوہ زندہ تھے کیونکہ دل حرکت کر رہا تھا اور خون اس کی حرکت کی وجہ سے باہر آتا رہا اور اس کپڑے پر کافی مقدار میں لگا۔اس طرح پوپ نہم نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ کفن کے کپڑے سے ظاہر ہونے والی تصویر کے بنانے میں کسی انسانی ہاتھ کا دخل نہیں ہے۔پھر مسیح علیہ السلام کی چونکہ ہڈیاں نہیں توڑی گئی تھیں۔اس لحاظ سے اس کفن پر سر کی طرف خون کے نشان ہیں چونکہ کانٹوں کا تاج رکھنے سے سر زخمی تھا یا پھر ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونکنے سے زخم ہوئے تھے اور سب سے اہم نشان آپ کی پہلی چھیدنے کی جگہ کا ہے۔کفن پر ان زخموں سے نکلنے والے خون کے صرف نشان ہی نہیں بلکہ ان زخموں سے اس مقدار میں خون بہہ گیا کہ وہ باریک بار یک اور موٹی لکیریں بنا گیا ہے جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان زخموں سے خون کا بہنا کافی عرصہ تک جاری رہا تا وقت کہ آپ کے زخموں پر لگائی گئی دوا نے اس خون کے