حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 59 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 59

۵۹ کسٹوڈین ہیں اُن کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔(بحوالہ مسیح کی گمشدہ زندگی صفحه ۴۲ تا ۴ ۴ مؤلف پیام شاہجہانپوری مطبوعه اداره تاریخ و تحقیق این ۲۳ عوامی فلیٹس ریواز گارڈن لاہور ۱۹۹۲ء) حضرت مسیح علیہ السلام کو جس وقت صلیب دی گئی تھی اس وقت ان کی عمر ۳۳ سال کی بتائی جاتی ہے جو کہ جوانی کا زمانہ ہے اس لئے لازمی بات ہے کہ جب مسیح کو واقعہ صلیب کے بعد اس بار یک چادر میں لپیٹا گیا تو اس پر اگر کوئی نقش اُبھرتا تو وہ ایک جوان کی شبیہ ہی ہوتی۔۱۸۹۵ء میں جب یہ چادر اٹلی کے معزول حکمران شاہ امبرٹو ثانی کے قبضے میں تھی تو بادشاہ کی اجازت سے اس کا دیدار عام کروایا گیا اور دُور ونزدیک سے ہزاروں مسیحی اس کی زیارت کرنے کے لئے اٹلی آئے۔یہ وہ زمانہ ہے جب فوٹوگرافی کا فن اور کیمرہ نیا نیا ایجاد ہوا تھا۔چنانچہ اٹلی کے ایک شوقیہ فوٹوگرافرمسٹرسیکنڈ و پیا (Secondo Pia) نے جو پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل تھے اس چادر کی تصویر اُتار لی۔اس وقت تک فوٹو گرافی ابتدائی مرحلے میں تھی اور تصویر اُتارنے کیلئے بکس نما کیمرے استعمال ہوتے تھے۔سیلو لائڈ کی فلم بھی ایجاد نہیں ہوئی تھی بلکہ شیشے کی پلیٹ سے یہ کام لیا جا تا تھا۔فوٹوگرافر سیکنڈ و پیا تصویر اتار کر جب ڈارک روم میں گیا اور اس پلیٹ کو کیمیائی محلول میں ڈال کر نکالا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔کیونکہ اس پلیٹ پر حضرت مسیح کی سیدھی تصویر ابھر آئی تھی جسے مثبت (Positive) کہتے ہیں۔یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ تصویر کشی کی دنیا کا حیرت انگیز اور ناممکن الوقوع واقعہ تھا جواب وقوع میں آچکا تھا۔اس کفن کی حیرت انگیز بات صرف یہ نہ تھی کہ اس میں سے مسیح کی مثبت تصویر ابھری تھی بلکہ اس کفن نے اور بھی بہت سے حیرت انگیز انکشاف کئے ہیں۔سب سے بڑا