حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 95 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 95

۹۵ انبیاء کے ایک لمبے سلسلے کے بعد دنیا میں ظاہر ہوئے۔جن کو باغبانوں نے صلیب پر لٹکایا اس کے بعد لکھا ہے کہ اب مالک خود آئے گا وہ مالک گویا خدا ہے اور اس کی نشانی جو اس عظیم الشان وجود میں ظاہر ہونے والا تھا یہ تھی کہ ”جس پتھر کو معماروں نے رڈ کیا وہی کو نے کے سرے کا پتھر ہوگا یعنی حضرت اسماعیل کی اولا د جن کو بنو اسحاق ہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھتے آئے اور رڈ کرتے آئے وہی جس کے بارے میں لکھا ہے کہ ” تیری قوم اسرائیل کی مانند ایک گروہ کون ہے دوسرا گروہ بنی اسماعیل کا ہے اسی میں سے وہ وجود 66 66 حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جو کہ بنی اسرائیل کے مقابل پر حقارت کی نظر سے دیکھا جانے والا گر وہ تھا۔-: اس عظیم الشان وجود کی ایک نشانی یہ بیان فرمائی ہے کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی۔اس طرح یہ نبوت کا انعام جو بنی اسرائیل میں جاری تھا دوسرے گروہ کو دے دیا گیا اور خدا کی بادشاہت پیشگوئی کے مطابق بنی اسرائیل سے لیکر بنی اسماعیل کو دے دی گئی۔پھر یہ نشانی موجود ہے کہ 'اور جو اس پتھر پر گرے گا اُس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گئے چنانچہ قیصر و کسری کی زبر دست حکومتیں جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلاموں کے بالمقابل آئیں تو وہ بھی پاش پاش ہو گئیں۔پس اس تمثیل میں بیان کردہ پیشگوئی کے مصداق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ایک جگہ بائبل میں لکھا ہے کہ :- دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔“ متی باب ۲۳ آیت ۳۹،۳۸)