حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 96
۹۶ اس میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ میرے چلے جانے کے بعد میرا دوبارہ آنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ نہ آئے جو خدا کے نام پر آتا ہے۔گویا مسیح کی آمد ثانی کے درمیان ایک شخص کا خدا کے نام پر آنا ضروری ہے اور حضرت مسیح کے بعد جو وجود خدا کے نام پر کونے کا پتھر ثابت ہو اور بنو اسحاق کی نظروں میں حقیر جانا جانے والا خدا کا محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے جو ظاہر ہوا۔اسی طرح ایک جگہ لکھا ہے کہ :- ” اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کا ہن اور لیوی یہ پوچھنے کو اُس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں اُنہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے؟ کیا تو ایلیا ہے؟ اُس نے کہا میں نہیں ہوں کیا تو وہ نبی ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔“ (یوحنا باب ۱ آیت ۱۹ تا ۲۱) یوحنا سے جب سوال کئے گئے تو تین وجودوں کے بارے میں ان سے سوال کیا اور یوحنا نے جواب دیئے۔سب سے پہلے پوچھا کہ کیا تو مسیح ہے؟ تو آپ نے انکار کیا کہ نہیں پھر سوال کیا کہ کیا تو ایلیا ہے؟ اس بات پر بھی آپ نے کہا کہ میں نہیں کہتا پھر تیسر اسوال کیا کہ کیا تو وہ نبی ہے؟ اس بات سے بھی آپ نے انکار کیا۔یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یہود میں تین وجودوں کا انتظار ہے۔اول مسیح کا ، دوسرا ایلیا کا ، تیسرا وہ نبی کا۔مسیحی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ میسیج بھی آگئے اور ایلیاء بھی ظہور فرما چکے لیکن ایک تیسرے وہ نبی کا آنا باقی ہے۔یہ وہ نبی وہی ہے جس کے بارے میں خود مسیح نے بھی فرمایا ہے کہ :- مبارک ہے وہ جو خدا وند کے نام پر آتا ہے۔“ ( متی ۲۳ آیت (۳۹) اسی طرح بائیل میں وہ نبی کی نشاندہی استثناء باب ۱۸ آیت ۱۵ تا ۱۸ تک کی آیات