حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 90 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 90

ہے وہ حواریوں اور بعد میں آنے والوں کے اقوال ہیں جو اُنہوں نے اپنی یادداشت کے مطابق اکٹھے کئے تھے۔اس پیشگوئی کے مصداق اصل میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔بائیبل میں لکھا ہے کہ :- وو اور اس لونڈی کے بیٹے سے بھی ایک قوم پیدا کروں گا اس لئے کہ وہ بھی تیری نسل ہے۔تب ابرہام نے صبح سویرے اُٹھ کر روٹی اور پانی کی ایک مشک لی اور ہاجرہ کو اُس کے کاندھے پر دھر کر دی اور اُس لڑکے کو بھی اور اُسے رخصت کیا۔وہ روانہ ہوئی اور بیرسبع کے بیابان میں بھٹکتی پھرتی تھی۔اور جب مشک کا پانی چک گیا تب اس نے اُس لڑکے کو ایک جھاڑی کے نیچے ڈال دیا۔اور آپ اُس کے سامنے ایک تیر کے لیئے پر دُور جا بیٹھی۔کیونکہ اُس نے کہا میں لڑکے کا مرنا نہ دیکھوں سو وہ سامنے بیٹھی اور چلا چلا کر روئی۔تب خدا نے اس لڑکے کی آواز سنی اور خدا کے فرشتے نے آسمان سے باجرہ کو پکارا اور اُس سے کہا کہ اے ہاجرہ تجھ کو کیا ہوا؟ مت ڈراس لڑکے کی آواز جہاں وہ پڑا ہے خدا نے سُنی۔اُٹھ اور لڑکے کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اُس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔پھر خدا نے اُس کی آنکھیں کھولیں اور اس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا اور جا کر اُس مشک کو پانی سے بھر لیا اور لڑکے کو پلایا۔اور خدا اُس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑھا اور بیابان میں رہا اور تیرانداز ہو گیا۔اور وہ فاران کے بیابان میں رہا اور اُس کی ماں نے ملک مصر سے ایک عورت اُس سے بیاہنے کو لی۔“ پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۳ تا ۲۱) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کا تعلق سینا کے علاقہ سے تھا لیکن حضرت ہاجرہ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ جس جگہ چھوڑا اس جگہ آج مکہ آباد ہے اور اسی جگہ کو بائیمیل فاران کا علاقہ بیان کرتی ہے۔اب بات صاف ہو جاتی ہے کہ فاران سے کون آیا۔پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ہوئے تو آپ مکہ