حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 85
۸۵ ان حوالوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کشمیر میں آئے اور اسی جگہ آپ نے وفات پائی۔کشمیر کی تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ محلہ خانیار سرینگر میں جو مقبرہ ہے وہ حضرت مسیح کا ہے جس کو یوز آسف بھی کہا جاتا تھا جو کہ یسوع سے بگڑا ہوا یا پھر یسوع یوز آسف سے بگڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔محلہ خانیار میں روضہ بل مقام پر ایک کمرے کے اندر دو قبریں ہیں جن پر لکڑی کا بڑا ہی نقش و نگار والا جنگلہ لگا ہوا ہے۔ایک قبر بڑی ہے اور دوسری چھوٹی۔اس کے نیچے تہہ خانہ ہے اصل قبر اسی میں موجود ہے۔ان دونوں قبروں کا رُخ اُوپر کی طرف سے شمالاً جنوبا ہے لیکن تہ خانہ میں مسیح کی قبر یہودیوں کے دستور کے مطابق شرقا غربا بنی ہوئی ہے۔اس کے ساتھ ہی اُو پر مسیح کی قبر کی طرف مسیح کے پیروں کے نشان ایک پتھر پر موجود ہیں۔اُن کو دیکھنے سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشان زخمی پیروں کے ہیں۔چونکہ آپ کے پیر کیل ٹھونکنے کی وجہ سے زخمی ہو کر اپنے زخم کا نشان چھوڑ گئے تھے۔اسی قبر کے پاس ہی ایک لکڑی کی لوح ہے جس پر یوز آسف کے مختصر حالات درج ہیں۔اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کا قبرستان ہے اس میں بھی تمام قبریں شمالاً جنوبا بنی ہوئی ہیں صرف مسیح کی قبر ہی شرقا غربا نظر آتی ہے۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ حضرت مریم کی قبر بھی کشمیر کے اس حصہ میں واقع ہے جو اس وقت پاکستان کے علاقہ میں ہے جس پہاڑ پر حضرت مریم کی قبر موجود ہے اس کو کوہ مری کے نام سے جانا جاتا ہے۔کوہ کے معنی پہاڑ کے ہیں مری مریم کا مخفف ہے اس طرح اس علاقہ کا نام ہی حضرت مریم کے نام پر کوہ مری پڑا۔