حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 84
کہتے ہیں۔اور ہرات کے بہت سے دیہات میں ان کی آبادیاں ہیں۔مگر ان کا مرکز شہر ہرات ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ زمانہ قدیم میں مشرقی ایران کے یورپی مبلغوں کے زیر اثر عیسائی ہو گئے تھے لیکن جب عربوں نے افغانستان فتح کیا تو مسلمان ہو گئے مگر اپنے پہلے مذہب اور جناب مسیح سے اپنی نسبت پر زور دیتے رہے ان لوگوں کے عقیدے کی رو سے حضرت مسیح صلیب پر وفات پانے سے محفوظ رہے اور لکھا ہے کہ :- صلیب سے اُترنے کے بعد ان کے دوستوں نے انہیں چھپا لیا اور وو ہندوستان کی طرف نقل مکانی کرنے میں اُن کی مدد کی یوز آسف ہی مسیح تھے۔“ (AMONG THE DERVISHES BY O۔M۔BURKE, LONDON 1973P۔12) تاریخ کی کتب میں کتنی ہی شہادتیں ہیں جو مسیح کے کشمیر میں آنے کے تعلق سے مو -: ہیں جیسا کہ اکمال الدین کتاب میں درج ہے کہ " پھر آپ نے سر زمین سولابط سے نقل مکانی کر کے کئی شہروں اور ملکوں کی سیاحت اختیار کی حتی کہ اُس زمین میں پہنچے جسے کشمیر کہا جاتا ہے۔اس جگہ آپ مختلف مقامات پر گھومتے اور ٹھہرتے رہے اور پھر یہیں قیام کیا یہاں تک کہ آپ کی وفات کا وقت آگیا کہ اپنا جسم عنصری چھوڑ کر نور (خدا) کی طرف اُٹھائے جائیں۔اپنی وفات سے قبل آپ نے اپنے ایک شاگرد کو جس کا نام باید تھا بلایا جو آپ کی خدمت اور دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔اور یہ شخص اپنے جملہ امور میں کامل اور طاق تھا۔آپ نے اسے وصیت کرتے ہوئے فرمایا میرا دنیا سے اُٹھائے جانے کا وقت آگیا ہے پس تم اپنے فرائض کی نگہداشت کرو اور حق سے رُوگردانی نہ کر اور ہمیشہ ایثار اور قربانی کا طریق اختیار کرو۔اس کے بعد آپ نے باید کو حکم دیا کہ وہ اُن کے لئے ایک جگہ تیار کرے۔آپ نے اپنے پاؤں دراز کئے اور اپنا سر مغرب کی طرف کیا پھر مشرق کی طرف منہ، پھر اس کے بعد آپ نے جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔“ اکمال الدین المطبعة الحید ریه الخف صفحه ۶۰۰،۵۹۹)