حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 83 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 83

۸۳ وو " اب سوچنے کا مقام ہے کہ اس قدر مشابہت بدھ میں اور حضرت مسیح میں کیوں پیدا ہوئی۔اس مقام میں آریہ تو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح نے اس سفر کے وقت جبکہ ہندوستان کی طرف انہوں نے سفر کیا تھا بدھ مذہب کی باتوں کوٹن کر اور بدھ کے ایسے واقعات پر اطلاع پا کر اور پھر واپس اپنے وطن میں جا کر اسی کے موافق انجیل بنائی تھی۔اور بدھ کے اخلاق میں سے چرا کر اخلاقی تعلیم لکھی تھی اور جیسا کہ بُدھ نے اپنے تئیں نو ر کہا اور علم کہا اور دوسرے خطاب اپنے نفس کے لئے مقرر کئے وہی تمام خطاب مسیح نے اپنی طرف منسوب کر دیے تھے۔یہاں تک کہ وہ تمام قصہ بدھ کا جس میں وہ شیطان سے آزمایا گیا اپنا قصہ قرار دے دیا۔لیکن یہ آریوں کی غلطی اور خیانت ہے۔یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے پہلے ہندوستان کی طرف آئے تھے۔اور نہ اس وقت کوئی ضرورت اس سفر کی پیش آئی تھی۔بلکہ یہ ضرورت اس وقت پیش آئی جبکہ بلادِ شام کے یہودیوں نے حضرت مسیح کو قبول نہ کیا اور ان کو اپنے زعم میں صلیب دے دیا۔جس سے خدا تعالیٰ کی بار یک حکمت عملی نے حضرت مسیح کو بچا لیا۔تب وہ اس ملک کے یہودیوں کے ساتھ حق تبلیغ اور ہمدردی ختم کر چکے اور بباعث اُس بدی کے ان یہودیوں کے دل ایسے سخت ہو گئے کہ وہ اس لائق نہ رہے کہ سچائی کو قبول کریں۔اس وقت حضرت مسیح نے خدا تعالیٰ سے یہ اطلاع پا کر کہ یہودیوں کے دس گم شدہ فرقے ہندوستان کی طرف آگئے ہیں ان ملکوں کی طرف قصد کیا۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۷۵) کچھ مدت قبل لندن سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کے مصنف مسٹر اوه ایم۔برک (O۔M۔BURKE) نامی مسیحی سیاح نے یہ انکشاف کیا کہ افغانستان کے صوبہ ہرات میں ایک چھوٹا سا فرقہ ہے جو اپنے آپ کو عیسی ابن مریم ناصری کا شمیری کا پیروکار کہتا ہے۔یہ لوگ عیسی ابن مریم کے پیروکار ہونے کے باوجود خود کو مسلمان بھی