حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 70
کے بیٹے اور خود حضرت مسیح نے بھی کسی کے آسمان پر جانے اور آنے کی تفسیر کرتے ہوئے یوحنا کی آمد کو اس طرح بیان کیا ہے کہ :- " اُس کے شاگردوں نے اُس سے پوچھا کہ پھر فقیہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ایلیا کا پہلے آنا ضروری ہے؟ اس نے جواب میں کہا ایلیا البتہ آئے گا اور سب کچھ بحال کرے گا۔لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ ایلیا تو آپکا اور اُنہوں نے اُس کو نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا اسی طرح ابن آدم بھی اُن کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا تب شاگرد سمجھ گئے کہ اُس نے ہم سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا ہے۔“ متی باب ۱۷ آیت ۱۰ تا ۱۳) تمام مسیحی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہود کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت الیاس نبی بگولے میں بیٹھ کر آسمان پر چلے گئے تھے اور وہ حضرت مسیح سے قبل آسمان سے اتریں گے پھر مسیح پیدا ہونگے۔اور یہود نے حضرت مسیح کا انکار ہی اس لئے کیا تھا کہ اُن کے نزدیک ایلیا آسمان سے نہ آئے تھے۔لیکن حضرت مسیح نے یوحنا کے متعلق فرمایا کہ یہ ایلیا ہیں جبکہ آپ آسمان سے نہ آئے تھے اسی لئے ایک اور جگہ حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ " آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سوا اس کے جو آسمان سے اترا یعنی ابن آدم جو -: آسمان میں ہے۔“ جبکہ حاشیہ میں لکھا ہے کہ :- (یوحنا باب ۳ آیت ۱۳) ” جو آسمان میں ہے ندارد “ یعنی ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔اس سے بات صاف ہو جاتی ہے کہ کسی انسان کا آسمان پر جانا اور وہاں سے آنا یہ ممکن ہی نہیں بلکہ خلاف عقل بھی ہے اور خود بائبیل بھی اس کی گواہی دیتی ہے کہ کوئی آسمان پر