حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 67
۶۷ دو لیکن وہ باہر جا کر بہت چرچا کرنے لگا اور اس بات کو ایسا مشہور کیا کہ یسوع شہر میں پھر ظاہرا داخل نہ ہو سکا بلکہ باہر ویران مقاموں میں رہا اور لوگ چاروں طرف سے اُس کے پاس آتے تھے۔“ ( مرقس بابا آیت ۴۵) حضرت مسیح نے جس کو ڑھی کو اچھا کیا تھا اسکو تاکید کی تھی کہ ”خبر دار کسی سے کچھ نہ کہنا“ (مرقس ۱ آیت (۴۴) لیکن اس نے چرچا کر دیا۔یہ بات اس حقیقت کی شہادت ہے کہ مسیح اپنے آپ کو چھپارہے تھے۔لیکن جب آپ کا چر چاز یادہ ہو گیا تو پھر آپ ظاہرا شہر میں داخل نہ ہوتے تھے گویا چھپ کر آیا کرتے تھے۔اسی طرح ایک جگہ لکھا ہے کہ :- " جب دن بہت ڈھل گیا اُس کے شاگرد اس کے پاس آکر کہنے لگے یہ جگہ ویران ہے اور دن بہت ڈھل گیا ہے۔انہیں رخصت کرتا کہ وہ چاروں طرف کی بستیوں اور گاؤں میں جا کر اپنے لئے کچھ کھانے کو مول لیں۔“ ( مرقس باب ۶ آیت ۳۶،۳۵) ان تمام حوالوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح اپنے آپ کو چھپا رہے تھے۔ویرانوں میں رہتے تھے اور اگر شہروں کی طرف جاتے بھی تو چھپ کر ، ظاہرا نہیں جاتے تھے پھر اُنہوں نے اپنا حلیہ بھی تبدیل کر لیا تھا تا کہ وہ پہچانے نہ جائیں حتی کہ آپ کے شاگرد بھی آپ کو آسانی سے نہ پہچان پاتے تھے۔یہ سب باتیں حضرت مسیح کے اس ڈر کو ظاہر کرتی ہیں کہ کہیں پھر نہ پکڑا جا کر تکلیف دیا جاؤں۔اور بعثت کے مقصد کے حصول میں ناکام رہوں۔اس لئے آپ ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی طرف چلے جاتے اور دوسرے سے تیسرے کی طرف۔جبکہ واقعہ صلیب سے قبل آپ عام لوگوں میں جاتے عبادت خانوں میں جا کر تبلیغ کرتے لوگوں کو اکٹھا کرتے اور کا ہنوں کے ساتھ مناظرہ ومباحثہ کرتے تھے لیکن واقعہ صلیب کے بعد آپ نے یہ سب