حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 57 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 57

۵۷ شہر میں موجود تھی۔لیکن مسلمانوں کے پاس نہیں تھی بلکہ ادیسہ کے مسیحیوں کی تحویل میں تھی۔اور اُن کے ایک مقدس گرجا میں محفوظ تھی۔چنانچہ جان ولسن کی تحقیق کے مطابق چادر حاصل کرنے کے لئے بازنطینی عیسائی فوج نے ۹۴۴ء میں ادیسہ پر حملہ کر دیا لیکن ادیسه کے مسیحیوں نے چادر دینے سے انکار کر دیا مگر اس دوران میں کچھ مسلمان ( جن کی تعداد دو سو کے قریب تھی ) عیسائی فوج کے ہاتھ لگ گئے جنہیں اُس نے یرغمالی بنالیا۔آخر ادیہ کی ترک حکومت نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو رہا کروانے اور اُن کی جانیں بچانے کی خاطر یہ چادر حملہ آور فوج کے حوالے کر دینی چاہئے۔چنانچہ ادیسہ کے مسیحیوں سے درخواست کی گئی کہ وہ یہ چادر حملہ آور فوج کے سپرد کر دیں اس طرح یہ متبرک چادر قسطنطنیہ کے عیسائی حکمرانوں کے پاس پہنچ گئی۔۱۲۰۴ء میں فرانس کی فوجوں نے قسطنطنیہ پر حملہ کر دیا اس حملے میں بڑی سخت خون ریزی اور لوٹ مار ہوئی۔اس لوٹ مار سے یہ چادر بھی محفوظ نہ رہی اور نوابان فرانس اسے لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئے۔حملہ آور فوج کے ایک جرنیل رابرٹ ڈی قلاری نے شہادت دی کہ جب اس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا تو بلا چر نائی (Blacherni ) کی خانقاہ مریم میں اس نے یہ چادر دیکھی تھی۔جنرل کے بقول ہر جمعہ کو اس کی نمائش کی جاتی تھی۔یہاں تک تو کوئی بات تعجب انگیز نہیں۔تعجب اس وقت ہوتا ہے اور انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے جب جنرل یہ گواہی دیتا ہے کہ اس چادر پر ہمارے خداوند یسوع مسیح کی تصویر بہت نمایاں نظر آتی تھی۔قریبا ڈیڑھ سو سال کے بعد ۱۳۵۴ ء میں یہ چادر مشرقی فرانس کے شہر کری (Lirey) سے ظاہر ہوئی۔جہاں فرانس کے ایک نواب جغیر ی ڈی چینی Jeoffrey De Charni) نے اس شہر کے کالج میں واقع گرجا میں محفوظ کر دیا تھا۔چند دہائیوں کے بعد جیفیری کی پوتی مار گیورائیٹ ڈی