حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 56 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 56

جنہیں اس کفن کی موجودگی اُن کی بنیادوں کو ہلا تا ہوا دکھاتی ہے اس کے ضائع کرنے کی کوشش میں ہیں ابھی کل مورخہ ۴/۹۷/ ۱۲ی زی نیوز کی خبر تھی کہ اُس محل کو آگ لگ گئی جس میں اس کفن کو رکھا گیا تھا لیکن اس آگ سے اس مقدس کفن کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔اس کفن کے ساتھ یہ واقعہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ کئی مرتبہ ہوا ہے ایک مرتبہ اس کو تھوڑا سا نقصان بھی پہنچ چکا ہے۔بہر حال اس میں ایک بڑا ہی اہم راز ہے جو مسیح کے زندہ صلیب سے اُترنے کا اس کفن میں پوشیدہ ہے۔اس جگہ اس کفن کی مختصر تاریخ بیان کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔اس چادر کے بارے میں ایک بہت جامع اور مستند کتاب The Turin Shroud ہے جس کے مصنف جان ولسن نامی ایک فاضل محقق ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ یہ چادر ابتداء میں جناب مسیح کے خاندان کے قبضے میں رہی اس خاندان کا ایک فرد جوڑے تھیڈن (Jude Thhadden) یہ چادر ترکیہ کے جنوب مشرق میں واقع شہر ادیسہ (Edessa) لے گیا اس کے بعد ۵ء میں یہ چادر غائب ہو گئی اور قریباً پانچ سو سال تک غائب رہی۔۵۲۲ بہ میں یہ چادر پھر ظاہر ہوتی ہے۔یہ وقت وہ ہے جب ایرانی فوجیں ادیسہ نامی شہر پر حملہ کرتی ہیں۔دشمن کی کثرت دیکھ کرادیسہ کے حکمرانوں کی ہدایت پر چادر کو فیصل شہر پر پھیلا دیا جاتا ہے۔روایات اور اعتقاد کے مطابق اس چادر کی برکت سے ادیسہ کو فتح حاصل ہوتی ہے ایرانی فوجیں شکست خوردہ ہوکر پسپا ہو جاتی ہیں۔اس واقعہ نے اس چادر کی تقدیس کے بارے میں بہت اضافہ کر دیا اور جن لوگوں کو اس کے حقیقی ہونے کا شبہ تھا ان کے بھی شبہات دور ہو گئے۔دسویں صدی عیسوی میں واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ چادر (ادیسہ ) کے اسلامی