حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 50
سویرے جب سورج نکلا ہی تھا قبر پر آئیں۔اور آپس میں کہتی تھیں کہ ہمارے لئے پتھر کو قبر کے منہ پر سے کون لڑھکائے گا ؟۔“ ( مرقس باب ۱۶ آیت ۱ تا ۳) یہود میں کوئی ایسا رواج نہ تھا کہ وہ اپنے مردوں کو تیسرے دن اُکھاڑ کر پھر اُن پر خوشبودار چیزیں ملتے ہوں اور یہ رواج آج بھی موجود نہیں تو پھر کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ مسیح کو تیسرے دن خوشبو دار چیزیں ملی جائیں جو کہ مریم مگد لینی ، مریم ، اور سلومے بازار سے خرید کر لائی تھیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہی عورتیں قبر کے پاس بیٹھی پہرہ دیتی تھیں ان کو بھی اس بات کا علم تھا کہ میسیج زندہ ہیں اور تیسرے دن اُن کی مرہم پٹی تبدیل کرنی تھی اس لئے یہ چیزیں دوبارہ بازار سے خرید کر لائی گئی تھیں اور یہ مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے کی نویں دلیل بنتی ہے۔نویں دلیل جیسا کہ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ مسیح کو صلیب پر ہی بے ہوش کر دیا گیا تھا اور جب آپ بے ہوش ہوئے تو وہ شام کا وقت تھا۔آپ ایک رات اور ایک دن اور دوسری رات کا کچھ حصہ بے ہوش رہے۔اس کے بعد آپ کو ہوش آ گیا۔اور آپ اس قبر نما کمرے سے باہر نکل گئے۔ایک عام مریض جس کو ایسے سخت صدمات پہنچے ہوں جب اُس کو تیز قسم کا کلوروفارم سنگھا دیا جائے تو ممکن نہیں کہ وہ اس سے پہلے ہوش میں آجائے۔یا بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مریض کو یکے بعد دیگرے بے ہوشی کا ڈوز دیا جاتا ہے تا کہ وہ تکلیف سے محفوظ رہے میں نے بعض مریض ایسے بھی دیکھے ہیں جو خود مطالبہ کر کے بے ہوشی کا ٹیکہ یا دوائی پیتے ہیں تا کہ اُن کو تکلیف کا احساس نہ ہو۔ہوسکتا ہے کہ کوئی ایسا بھی انتظام کیا ہو لیکن یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ تیز بے ہوش آور دوائی سے بے ہوش ہوا آدمی