حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 48
تھے جبکہ وہ صلیب سے اُتارے گئے تھے۔ساتویں شہادت جو مسیح علیہ السلام کے صلیب سے زندہ اترنے کی ہے اس کے تعلق سے بائبل میں لکھا ہے کہ :- "یوسف نے لاش کو لیکر صاف مہین چادر میں لپیٹا اور اپنی نئی قبر میں رکھ دیا جو اس نے چٹان میں کھدوائی تھی اور ایک بڑا پتھر قبر کے منہ پر لڑھکا کے چلا گیا اور مریم مگد لینی اور دوسری مریم وہاں قبر کے سامنے بیٹھی تھیں ( متی باب ۲۷ آیت ۵۹ تا ۶۱) مسیح علیہ السلام کو واقعہ صلیب کے بعد عام قبرستان میں دفن نہیں کیا گیا بلکہ اُس کے لئے ایک نئی قبر قبرستان میں کھود کر بنائی گئی تھی۔وہ قبر بھی ایسی تھی کہ اس میں آدمی داخل ہو سکتے تھے۔اور پھر اس کی قبر ایسی جگہ بنائی گئی تھی کہ کوئی نہ جانے کہ مسیح کو یہاں رکھا گیا ہے اور اس قبر کے منہ پر جو کہ ایک غار نما کمرہ تھا ایک بڑا پتھر رکھ دیا تا کہ مسیح کے جسم کے رکھے جانے کے مقام کا کسی کو علم نہ ہو سکے۔اتنا ہی نہیں بلکہ وہ قبر جومسیح کے لئے بنائی گئی تھی وہ اتنی بڑی تھی کہ اس میں تین چار آدمی اکٹھے داخل ہو سکتے تھے جیسا کہ لکھا ہے کہ :- ” جب اُنہوں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ پتھر لڑھکا ہوا ہے کیونکہ وہ بہت ہی بڑا تھا اور قبر کے اندر جاکر انہوں نے ایک جوان کو سفید جامہ پہنے ہوئے دہنی طرف بیٹھے دیکھا اور نہایت حیران ہوئیں۔(مرقس باب ۱۶ آیت ۵،۴) یہ قبر میں جانے والی مریم مگر لینی۔اور یعقوب کی ماں مریم اور سلو مے تھیں۔جن کا اسی باب کی آیت نمبر 1 میں ذکر ہے۔اب دیکھیں کہ اگر مسیح وفات ہی پاچکے تھے تو پھر اُنہیں چھپانے کی کیا ضرورت تھی اور پھر اُن کو ایک کھلے کمرے میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی جس میں اور لوگ بھی داخل ہوسکیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ چونکہ مسیح زندہ تھے اور زندہ