حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 46
گیا تھا اس طرح کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی بچ جائے۔مسیح کے صلیب سے زندہ اُتر آنے کی شہادت جو بڑی اہم ہے اور بائبل میں درج ہے وہ یہ ہے کہ : " پس چونکہ تیاری کا دن تھا۔یہودیوں نے پیلاطس سے درخواست کی کہ اُن کی ٹانگیں توڑ دی جائیں اور لاشیں اُتار لی جائیں تاکہ سبت کے دن صلیب پر نہ رہیں۔کیونکہ وہ سبت ایک خاص دن تھا۔پس سپاہیوں نے آکر پہلے اور دوسرے شخص کی ٹانگیں توڑ دیں جو اُسی کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔لیکن جب اُنہوں نے یسوع کے پاس آکر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑیں۔مگر اُن میں سے ایک سپاہی نے بھالے سے اُس کی پہلی چھیدی اور فی الفور اس سے خون اور پانی بہہ نکلا۔جس نے یہ دیکھا ہے اُسی نے گواہی دی ہے اور اُس کی گواہی سچی ہے اور وہ جانتا ہے کہ سچ کہتا ہے تا کہ تم بھی ایمان لاؤ۔“ (یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱ تا ۳۵) اس حوالہ سے چوتھی شہادت مسیح کے زندہ صلیب سے اترنے کی یہ ثابت ہے کہ مسیح کی ہڈیاں نہ توڑی گئی تھیں۔دوسرے دو آدمیوں کی تو ٹانگیں توڑی گئیں تھیں کیونکہ اُن کے خیال میں وہ زندہ تھے اور ان کا زندہ ہونا اس بات سے ثابت ہے کہ جب اُنہوں نے یسوع کے پاس آکر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑی گئیں۔گویا کہ جو مر جاتا تھا اس کی ٹانگیں نہ توڑی جاتی تھیں میسیج چونکہ ان کے نزدیک مرچکے تھے اس لئے اُن کی ٹانگیں نہ توڑیں۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ دونوں آدمی جو مسیح کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے وہ زندہ تھے تو پھر اس عرصہ میں مسیح کیسے مر سکتے تھے یہ بات ہماری پہلی بات کو تقویت دیتی ہے کہ چونکہ مسیح اس چیز کے سونگھنے یا چوسنے سے بے ہوش ہو چکے ہوئے تھے جبکہ دوسرے دونوں کو وہ چیز جو مسیح کو سونگھائی یا چوسائی گئی تھی نہ سونگھائی گئی اور نہ ہی چوسائی گئی ، اس لئے وہ صلیب پر رہنے کے وقت تک ہوش ہی میں تھے جس پر ان کو