حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 35 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 35

قرآن کریم بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ : وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ -: یعنی اُنہوں نے بھی ایک تدبیر کی (یعنی مار دینے کی ) اور خدا نے بھی ایک تدبیر کی (یعنی بچانے کی ) اور خدا بہتر تد بیر کرنے والا ہے۔جبکہ خود بائیل بھی اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ حضرت مسیح کی دُعاسنی گئی لکھا ہے کہ : اُس نے اپنی بشریت کے دنوں میں زورزور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر اُسی سے دُعائیں اور التجائیں کیں جو اُس کو موت سے بچا سکتا تھا اور خدا ترسی کے سبب اُس کی سُنی گئی۔“ ( عبرانیوں باب ۵ آیت ۷) پس وہ لوگ جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ مسیح کی دُعا ایمان اور یقین سے پر تھی تو اس کا ئناجانا ضروری تھا تو وہ جان لیں کہ مسیح صلیب پر نہیں مرے بلکہ خدا نے اُن کی دُعاسنی اور اُن کو بچایا۔اور اگر کوئی یہ یقین رکھتا ہے کہ مسیح صلیب پر مر گئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسیح کی دُعا نہیں سنی گئی اور وہ سنی اس لئے نہیں جاسکتی تھی کہ وہ ایمان سے خالی اور شک سے پڑ تھی۔اگر مسیح کی دعا ہی ایمان سے خالی ہوتو پھر وہ دوسروں کو ایمان کس طرح دے سکتا ہے۔اس بات کا فیصلہ قارئین خود کریں کہ وہ مسیح کو ایمان والا تسلیم کرتے ہیں یا پھر ایمان سے خالی کہ جس کی دُعاسنی ہی نہیں جاسکتی اور نہ ہی سنی گئی۔اس بات کی شہادت ہم آگے دیں گے کہ آپ یقینی طور پر ایمان سے پر تھے اور خدا نے آپ کو بچایا اور جیسا آپ نے پہلے سے پیشگوئی کی تھی ویسے ہی وہ پوری ہوئی۔