حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 31
حقائق بالمیل اور مسیحیت آدم نے جو گناہ کیا تھا اُس کی سزا یہ دی گئی جو او پر بیان ہوئی ہے سانپ کو الگ سزا عنائی حوا کو الگ اور آدم کو الگ۔مسیحی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح اس گناہ سے نجات دلانے آئے تھے جو آدم سے سرزد ہوا تھا۔اب جبکہ بقول مسیحیت مسیح ان گناہوں کا کفارہ کر گئے تو لازمی بات ہے کہ اس گناہ کی سزا بھی ختم ہو جانی چاہئے۔مسیحی کہتے ہیں سزا اس کی ختم ہوگی جو ایمان لائے۔مسیحی تو سب ایمان لائے ہیں میں کہتا ہوں کہ اگر مسیح کی صلیبی موت نے اُن کو گناہ سے نجات دے دی ہے تو پھر ایک عورت ایسی دکھا دیں جس کو کفارہ نے فائدہ پہنچایا ہو اور گناہ کی سزا کا کفارہ ہو جانے کے بعد اور ایمان لانے کے بعد اُس کی سزا دُور ہوگئی ہو اور وہ درد کے بغیر بچے پیدا کرتی ہو۔اور بنا درد کے اُس نے لڑکے جنے شروع کر دیئے ہوں اور پھر وہ کون سی عورت ہے جو اپنے خصم کی طرف شوق نہ رکھتی ہو۔پھر وہ کون سا مسیحی مرد ہے جو تکلیف کے ساتھ نہ کھاتا ہو اور زمین کی نبات نہ کھا تا ہو۔کوئی ایک بھی مسیحی ایسا نہیں جس نے مسیح کے صلیب پر مرجانے کے بعد کفارہ کی صورت میں سزا کی معافی کے بدلے زمین کی نبات کھانی چھوڑ دی ہو۔اور وہ منہ پسینے کی نہ کھا تا ہو۔آج بھی سانپ پیٹ کے بل چلتا ہے اور خاک کھاتا ہے آج بھی عورت کی نسل کے ساتھ سانپ کی دشمنی قائم ہے سانپ کاتا ہے اور لوگ مرتے ہیں۔اب دیکھیں اگر مسیح کے صلیب پر مرنے سے گناہ کا کفارہ ہو گیا تو پھر سزا کیوں معاف نہیں ہوئی ؟ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسیح کا صلیب پر مرنا اور پھر اُس کے خون کا بہنا کسی بھی انسان کے کام نہیں آیا۔اور نہ ہی کفارہ ہوا اور نہ ہی کفارہ قبول ہوا۔اب دیکھیں بائبل ہی ہر لحاظ سے اور ہر جانب سے کفارہ کا رڈ کرتی ہے تو پھر اپنے ہی خیال سے ایک عقیدہ بنالینا انسان کو کس طرح فائدہ دے سکتا ہے۔بس اس پر تو یہی مصرعہ صادق آتا ہے کہ۔دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے