حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 27 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 27

۲۷ بپتسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں ہوا۔لیکن جو آسمان کی بادشاہت میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے۔“ متی باب ۱۱ آیت ۱۱) ( یہی حوالہ لوقا باب ۷ آیت ۲۸ میں درج ہے) اس آیت میں حضرت مسیح نے خود فرمایا ہے کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے کا مقام سب سے بڑا ہے جب یہ بات ظاہر ہے کہ مسیح بھی تو عورت سے پیدا ہوئے تو بقول مسیح بحوالہ بائبل یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسیح سے یوحنا کا مقام بڑا ہے۔اب مسیحی بتائیں کہ کیا یوحنا کو مسیح کی قربانی بصورت کفارہ کی ضرورت ہے؟ اگر پھر بھی کہا جائے کہ ضرورت ہے تو پھر بتائیں کہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سب سے بڑا ہونا (مسیح سے بھی ) اُس کو کیا فائدہ دیتا ہے اور پھر کیا یہ بات انصاف اور حق پر مبنی ہے؟ اسی طرح لکھا ہے کہ :- " مگر فرشتے نے اس سے کہا اے ذکر یا خوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا ئیں سُن لی گئی اور تیری بیوی ایشیع تیرے لئے بیٹا جنے گی تو اس کا نام یوحنا رکھنا۔اور تجھے خوشی و خرمی ہوگی۔اور بہت سے لوگ اُس کی پیدائش سے خوش ہونگے۔کیونکہ وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگا اور ہر گزئے نہ کوئی اور شراب پیئے گا اور اپنی ماں کے پیٹ ہی سے رُوح القدس سے بھر جائے گا۔“ (لوقا باب ۱ آیت ۱۳ تا ۱۵) اس آیت میں یوحنا کو بزرگ کہا گیا ہے نہ صرف بزرگ بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ ہی سے رُوح القدس سے بھر جائے گا۔ایسا شخص جو بزرگ بھی ہو اور روح القدس سے بھرا ہوا بھی ہو اُس کو کسی کفارہ کی کیا ضرورت۔؟ اگر کہا جائے کہ پھر بھی ضرورت ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے مسیح رُوح القدس سے پیدا ہوئے اور یوحنا بھی روح القدس سے بھرے ہوئے تھے تو پھر ان دونوں میں کیا فرق باقی رہا جبکہ مسیح یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ عورت سے پیدا ہونے والوں میں ان کا مقام سب سے بڑا ہے اور مسیح بھی عورت سے پیدا ہوئے تو پھر کیا یوحنا کا مقام مسیح کے مقام سے نہ بڑھ گیا ؟ تو پھر ان کو کفارہ