حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 26
گا۔کیا وہ سب لوگ جو مسیح کی قربانی سے قبل پیدا ہوئے اور وفات پاگئے وہ سب گناہ گار ہی مرے؟ اور سزا کے مستوجب ٹھہرے ! اگر اس کا جواب ہاں میں ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا نے خود ہی ان کو گناہ گار رکھا کہ اُن کی نجات کے لئے خدا نے پہلے ہی اپنے بیٹے کو بھیج کر اُن کو گناہ سے نجات نہ دی۔اس لحاظ سے چونکہ انسان خدا ہی کے ہاتھوں مجبور تھا تو پھر بائبل کے خدا کو بھی یہ حق حاصل نہیں رہتا کہ وہ خود ہی مجبور کرے اور پھر اس کو اس کی سزا بھی دے۔جبکہ یہ بات بھی انصاف کا خون کرنے والی اور حق سے نا انصافی پر مبنی ہوگی۔اس جگہ اگر ہم عام انسانوں کو چھوڑ دیں اور صرف انبیاء کی بات کریں خاص طور پر اُن انبیاء کی جن کا ذکر بائبل کرتی ہے تو کیا اُن کی نجات بھی مسیح کے خون پر منحصر ہے مسیحی غور کریں کہ حضرت ابراہیم جو کہ سب نبیوں کے باپ کہلاتے ہیں اُن کی نجات کیسے ہوگی۔ہوگی بھی کہ نہیں ؟ اسی طرح داؤد۔یعقوب موسی و دیگر انبیاء کا کیا ہوگا۔کیا اُن کی نیکی جس کی تصدیق خود بائبل کرتی ہے ان کے کسی کام آئے گی یا نہیں آیا پھر وہ بھی مسیح کے خون سے بخشے جائیں گے؟ یہ تو انبیاء تھے اس کے علاوہ بائبل اوروں کو بھی نیک بتاتی ہے کیا اُن کی نیکی اُن کے کام آئے گی یا نہیں؟ جیسا کہ لکھا ہے :- وو " یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کے زمانے میں ابتیاہ کے فریق میں سے زکریا نام ایک کا بہن تھا۔اور اس کی بیوی ہارون کی اولاد میں سے تھی اور اس کا نام ایشیع تھا۔اور وہ دونوں خدا کے حضور راستباز اور خداوند کے سارے حکموں اور قانونوں پر بے عیب چلنے والے تھے۔“ (لوقا بابا آیت ۶،۵) کیا ان کی راستبازی اور خدا کے سارے حکموں پر اور قانونوں پر بے عیب چلنا اُن کی نجات کا ذریعہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ بائبل کی تعلیم راستباز کو نجات یافتہ مانتی ہے تو پھر ان راستبازوں کو کسی کفارہ کی کیا ضرورت ہے۔؟ اسی طرح بائبل میں ایک جگہ لکھا ہے کہ : -: " میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا