حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 25
۲۵ ٹال دے نہیں سنی گئی تبھی تو مسیح مصلوب ہوئے۔لیکن ہمیں یہ یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا که مسیح ایمان سے خالی ہوں اور اُن کی دُعانہ سنی گئی ہو۔آپ کی دُعا ایمان سے پر تھی اور وہ سُنی بھی گئی اس کا ثبوت آئندہ صفحات میں پیش کریں گے۔پس بائبل کی تعلیم کے لحاظ سے جو صلیبی موت خوشی سے نہ ہوئی بلکہ اس موت سے بچنے کے لئے مسیح دعا کرتے رہے اور روتے رہے وہ باقی بنی آدم کے لئے خدا کی طرف سے بیٹے کی قربانی اور کفارہ کس طرح ہوسکتی ہے؟ جبکہ بائبل کی تعلیم کی رُو سے کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ نہیں اُٹھا سکتا۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بائبل کی تعلیم کفارہ کے اصول کو ر ڈ کرتی ہے۔اور قرآن کریم بھی یہی فرماتا ہے : لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ (البقره آیت ۲۸۷) یعنی جو شخص کوئی اچھا کام کرے تو اس کا اجر اُسی کو ملے گا اور اگر کسی نے برائی کی تو اس کا وبال اُسی پر ہوگا۔پس یہی وہ تعلیم ہے جو انصاف پر بھی مبنی ہے اور پھر فطرت انسانی کے بھی عین مطابق ہے۔کفارہ کی ایجاد سے قبل کے لوگوں کا موروثی گناہ کس طرح بخشا جائے گا اس جگہ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدم کا کیا ہوا گنا ہ ورثہ کے طور پر اُس کی اولاد میں چل پڑا تھا تو پھر مسیح کے آنے سے پہلے والے لوگوں کی نجات کا ذریعہ کیا ٹھہرے