حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 24
۲۴ جب مسیح اس گھڑی کے ٹل جانے کے لئے بار بار دُعا کرتے ہیں تو پھر اس بات میں ذرہ برابر بھی شک باقی نہیں رہتا کہ مسیح صلیب پر چڑھنا اور مرنا نہیں چاہتے تھے۔ایک طرف مسیح کا بار بار دعا کرنا ثابت ہے تو دوسری طرف بائبل میں لکھا ہے کہ :- وو یسوع نے جواب میں اُن سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر ایمان رکھو اور شک نہ کرو۔تو نہ صرف وہ کرو گے جو انجیر کے درخت کے ساتھ ہوا بلکہ اگر اس پہاڑ سے بھی کہو گے کہ تو اُکھڑ جا اور سمندر میں جا پڑ تو یہ ہو جائے گا اور جو کچھ دُعا میں ایمان کے ساتھ مانگو گے وہ سب تمہیں ملے گا۔“ (متی باب ۲۱ آیت ۲۱، ۲۲) اس طرح ایک جگہ لکھا ہے کہ :- اس وقت شاگردوں نے یسوع کے پاس آکر کہا کہ ہم اس کو کیوں نہ نکال سکے اُس نے اُن سے کہا۔اپنے ایمان کی کمی کے سبب کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا تو اس پہاڑ سے کہ سکو گے کہ یہاں سے سرک کر وہاں چلا جا۔اور وہ چلا جائے گا۔اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہ ہوگی۔“ (متی باب ۱۷ آیت ۲۰،۱۹) ہر دو حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسیح کو دُعا پر کامل یقین تھا اور وہ اپنے شاگردوں کے سامنے اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ اگر ایمان کے ساتھ دُعا کی جائے تو وہ ضرور سنی جاتی ہے لیکن اگر ایمان کے بغیر دُعا ہو تو وہ قبول نہیں ہوتی۔اس سے پہلے کے حوالوں میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ مسیح دُعا کرتے رہے کہ اے میرے خدا مجھ سے یہ پیالہ ٹال دے۔اب اگر تو مسیح کی دُعا نہیں سنی گئی تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسیح کی دُعا ایمان سے خالی تھی اور جو شخص خود ایمان سے خالی ہو وہ دوسروں کو کس طرح ایمان بخش سکتا ہے۔وہ مسیحی جو مسیح کو مصلوب مانتے ہیں اُن کے نزدیک مسیح کی یہ دُعا کہ یہ پیالہ مجھ سے