حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 23 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 23

چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔“ ۲۳ (متی باب ۲۶ آیت ۳۹) مسیح کی اگر یہی دلی خواہش ہوتی کہ میں بنی آدم کی خاطر اپنے آپ کو قربان کردوں تا کہ بنی آدم گناہ سے نجات پائیں تو یہ بات کبھی نہ کرتے کہ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے پھر دیکھنے والی یہ بات بھی ہے کہ کیا مسیح کی یہ دُعاسنی بھی گئی کہ نہیں ؟ اس بات کا بھی بعد میں جائزہ لیا جائے گا۔بہر صورت یہ آیت اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ مسیح صلیب پر چڑھنے کے لئے راضی نہ تھے بلکہ وہ تو یہ دُعا کرتے تھے کہ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے۔اسی طرح ایک جگہ لکھا ہے کہ : -: " اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا ایلی۔ايلى لِمَا سَبَقْتَنِي ؟ یعنی اے میرے خدا ! اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔“ اس آیت میں مسیح اپنے خدا سے فریاد کر رہے ہیں اور مضطر ہونے کی حالت میں اپنے آپ کو ہر طرح سے بے بس پا کر خدا کو پکار رہے تھے۔پس جو کام سیخ کی رضامندی سے ہو ہی نہیں رہا وہ قربانی کیونکر کہلا سکتی ہے۔اسی طرح ایک جگہ لکھا ہے کہ :- اور اُن سے کہا۔میری جان نہایت غمگین ہے۔یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔تم یہاں ٹھہرو اور جاگتے رہو۔اور وہ تھوڑا آگے بڑھا اور زمین پر گر کے دُعا مانگنے لگا کہ اگر ہو سکے تو یہ گھڑی مجھ پر سے مل جائے۔“ (مرقس باب ۱۴ آیت ۳۵،۳۴) مسیح کا اس گھڑی کے ٹل جانے کے لئے دُعا کرنا متی ، مرقس لوقا سے ثابت ہے۔