حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 22 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 22

۲۲ مطابق لعنتی ہوئے۔پس جو شخص خود لعنتی ہو تو وہ دوسروں کو لعنت سے کیونکر چھڑ سکتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ بائبل کے کہنے کے مطابق مسیح صلیب پر مرے یا نہیں وہ لعنتی ہوئے یا نہیں یہ بحث آگے آئے گی۔اس جگہ صرف اس بات کی وضاحت کرنا مقصود ہے کہ صلیب پر مرنے والا بہر حال بائبل کے قول کے مطابق لعنتی ہے اور مسیحی دنیا یہ یقین کرتی ہے کہ مسیح صلیب پر مر گئے تھے اس لئے گلیوں نے انہیں لعنتی بھی قرار دیا۔پس جو شخص لعنتی ہو وہ کسی صورت میں بھی دوسرے کو لعنت سے نہیں چھڑا سکتا۔مسیح پر ایمان لانے والے جو اُس کی صلیبی موت کے قائل ہیں وہ مسیح کی صلیبی موت کو قربانی خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسیح نے یہی تو قربانی کی ہے کہ نسل آدم میں چلے آنے والے گناہ سے بنی آدم کو چھڑانے کی خاطر اپنی قربانی پیش کی اور دوسروں کو لعنت سے چھڑانے کے لئے خود لعنتی ہوا۔یا درکھنا چاہئے کہ ہر قربانی کے لئے دلی رضامندی کا ہونا ضروری ہوا کرتا ہے دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا مسیح نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کیا تھا اور بخوشی اس قربانی کے لئے تیار تھے؟ اگر تو مسیح نے اپنے آپ کو اپنی رضامندی سے صلیب پر چڑھا دینے کے لئے پیش کر دیا ہو تو پھر لازما یہ بنی آدم کے لئے اُن کی ایک قربانی ہوگی لیکن اگر اُنہوں نے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا بلکہ زبردستی پکڑ کر اُن کو صلیب پر لٹکایا گیا ہے تو پھر یہ واقعہ ظلم کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے قربانی نہیں کہلا سکتا۔اس بات کا جائزہ لینے کے لئے جب ہم بائبل پر غور کرتے ہیں کہ مسیح کو صلیب اُن کی اپنی رضامندی سے دی گئی تھی یا پھر انہیں زبر دستی صلیب پر چڑھایا گیا تھا تو ہم یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ : " پھر تھوڑا آگے بڑھا اور منہ کے بل گر کر یہ دُعا مانگی۔اے میرے باپ ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے۔تاہم جیسا میں چاہتا ہوں ویسا نہیں بلکہ جیسا تو