حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 21
حقائق بالمیل اور مسیحیت درست اور انصاف پر مبنی ہے کہ کوئی شخص کسی کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور باپ کے بدلے بیٹے کو پھانسی نہیں دی جاسکتی۔کفارہ کے مسئلہ پر مسیح کے ماننے والوں کی طرف سے یہ بات بھی بیان کی جاتی ہے کہ خدا نے بنی آدم پر رحم کھاتے ہوئے اُن کے ورثہ میں چلے آنے والے گناہ کو اپنے بیٹے کی قربانی سے دُور کیا ہے۔مضمون کے شروع میں باپ بیٹے کی حقیقت واضح کر دی گئی ہے جہاں تک کسی کی قربانی کسی دوسرے کے گناہ کو دور کرنے کے لئے ممد و معاون ہونے کی بات ہے تو ایسا ممکن نہیں کیونکہ حزقی ایل میں اس کی تردید موجود ہے تیسری بات صرف قربانی ہے کہ مسیح کو صلیب دیا جانا قربانی ہے یا نہیں؟ سب سے اول بات تو یہ ہے کہ صلیب پر مرنے والے کو بائبل کیا کہتی ہے دیکھیں لکھا ہے :- وو اور اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہوجس سے اُس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جائے اور تو اُسے درخت میں لٹکائے تو اُس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے بلکہ تو اُسی دن اُسے گاڑ دے کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے اس لئے چاہئے کہ تیری زمین جس کا وارث خداوند تیرا خدا تجھ کوکرتا ہے نا پاک نہ کی جائے۔“ (استثناء باب ۲۱ آیت ۲۳،۲۲) بائبل کے بیان کے مطابق پھانسی دیا جانے والا لعنتی ہے اس لئے بائبل نے مسیح کے متعلق لکھا ہے کہ :- وو د مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اُس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔“ (گلیوں باب ۳ آیت ۱۳) سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر مسیح صلیب پر مر گئے تھے تو پھر بائبل کے قول کے