حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 15
" جب وہ تنہائی میں دُعا مانگ رہا تھا اور شاگر داس کے پاس تھے تو ایسا ہوا کہ اُس نے اُن سے پوچھا کہ لوگ مجھے کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہا یوحنا بپتسمہ دینے والا اور بعض ایلیا کہتے ہیں اور بعض یہ کہ قدیم نبیوں میں سے کوئی جی اُٹھا ہے۔اُس نے اُن سے کہا لیکن تم مجھے کیا کہتے ہو؟ پطرس نے جواب میں کہا کہ خدا کا مسیح۔اُس نے اُن کو تاکید کر کے حکم دیا کہ یہ کسی سے نہ کہنا اور کہا ضرور ہے کہ ابن آدم بہت دُکھ اُٹھائے۔(لوقا باب ۹ آیت ۱۸ تا ۲۲) شاگردوں سے زیادہ استاد کو کون جان سکتا ہے مسیح نے جب لوگوں کے خیالات پوچھے تو کچھ اور تھے اور شاگردوں کا خیال پوچھا تو وہ اور تھا جواب دیا کہ خدا کا مسیح۔یہ نہیں کہا کہ خدا کا بیٹا۔اور پھر ساتھ ہی مسیح نے اپنا نسب نامہ یوں بیان کر دیا کہ ضرور ہے کہ ابن آدم بہت دُکھ اُٹھائے مسیح نے فورا پطرس کی بات کی تصدیق کر دی اور اپنے آپ کو ابن آدم قرار دیا۔اگر آپ اپنے آپ کو خدا کا بیٹا مانتے ہوتے تو پھر ضرور آپ شاگردوں کی غلط فہمی کو دور کرتے لیکن آپ نے اُن کی بات کو کہ خدا کا مسیح درست تسلیم کر کے اپنے آپ کو ابن آدم ہی قرار دیا۔حضرت مسیح ہمیشہ ہی اپنے آپ کو ابن آدم قرار دیتے رہے یعنی آدم کا بیٹا۔ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں بلکہ بائبل میں متعدد مقام پر اپنے آپ کو ابن آدم قرار دیا ہے جیسا کہ دوسری جگہوں پر لکھا ہے کہ " یسوع نے اُس سے کہا کہ لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے۔مگر ابن آدم کے لئے سردھرنے کی بھی جگہ نہیں“ لکھا ہے :- (متی باب ۸ آیت ۲۰)