حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 14 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 14

۱۴ آدمی ہو کر اپنے آپ کو خدا بناتا ہے یسوع نے انہیں جواب دیا کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نے کہا تم خدا ہو۔جب کہ اُس نے اُنہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کا کلام آیا اور کتاب مقدس کا باطل ہو ناممکن نہیں۔آیا تم اُس شخص سے جسے باپ نے مقدس کر کے دُنیا میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے اس لئے کہ میں نے کہا میں خدا کا بیٹا ہوں۔“ ( یوحنا باب ۱۰ آیت ۳۱ تا ۳۶) جبکہ زبور میں اللہ کے بارے میں یوں درج ہے کہ : -: " وہ نہیں جانتے اور وہ سمجھیں گے نہیں وہ اندھیرے میں چلتے ہیں۔زمین کی ساری بنیاد میں جنبش کرتی ہیں۔میں نے تم سے کہا کہ تم الہ ہو۔اور تم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو۔“ (زبور باب ۸۲ آیت ۶،۵) پس مسیح نے اگر اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا بھی ہے تو وہ انہیں معنوں میں جن معنوں میں پہلی شریعت میں جن لوگوں پر خدا کا کلام آیا اُن کو خدا کہا گیا ہے اور زبور میں یہ بات موجود ہے۔پھر یہ فرمانا کہ ” اور تم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو خدا کے بیٹوں کی حقیقت کو آشکار کر دیتا ہے۔بائبل کے مطالعہ سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح کے شاگرد جو سیخ کی زندگی میں آپ کے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے وہ بھی مسیح و خدا کا حقیقی بیا تسلیم نہیں کرتے تھے اگر وہ مسیح کی زندگی ہی میں مسیح کو خدا کا حقیقی بیٹا مانتے ہوتے تو پھر ضرور وہ مسیح کے سامنے بھی وچھے جانے پر اس بات کا اظہار کرتے لیکن ایسا دکھائی نہیں دیتا البتہ یہ بات بعد میں آنے والوں نے ضرور پیش کرنی شروع کر دی جو کہ بائبل کی تعلیم کے صریح خلاف تھی اور ہے۔بائبل میں لکھا ہے کہ :-